مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 690
4A4 کچھ اخلاق کے متعلق اخلاق کے متعلق لوگ اکثر پوچھتے رہتے ہیں۔آج میں مختصر طور پر ایک ضروری اصول ان کے متعلق عرض کہ دیتا ہوں۔میرے خیال میں اچھے اخلاق کئی قسم کے ہوتے ہیں۔طبیعی تقاضے جن پر اخلاق کا دھوکہ ہوتا ہے بعض لوگوں میں بعض طبیعی تقاضے جو ابھی اخلاق کا زنگ نہیں پکڑتے یعنی عقل کے ماتحت نہیں ہوتے۔اور موقع اور ضرورت کے مطابق صادر نہیں ہوتے۔وہ بھی بہت پسندیدہ ہوتے ہیں۔مشکل ایک انسان طبعی طور پر ہی نہایت حلیم اور بردبار ہوتا ہے۔یہ اس کا طبیعی تقاضا ہوتا ہے میر خلق لبعض الخفض پیدا نکلی اور طبیعی طور پر ہی ہنس مکھ اور خوش رہنے والا ہوتا ہے۔اسی طرح بعض لوگ طبیعی طور پر ایثار کرنے والے یا سخی ہوتے ہیں۔ان لوگوں کو اگر اپنے طبیعی تقاضوں پر فخر ہو۔تو ایسا ہی ہوگا۔جیسا کہ ایک ہیجڑا یا نا مرد کے کہ دیکھو میں حفیف اور پاکباز ہوں کہ مجھ سے بدکاری صادر نہیں ہوتی۔ایسے انطلاق کا اجر خدا کے ہاں کچھ نہیں ہے۔سوائے اس کے کہ وہ شخض بعض گناہوں یا نکا لیف میں پڑنے سے کیا جاتا ہے۔مثلاً جو طبعی طور پر نہایت درجہ حلیم ہے چونکہ وہ کسی سے لڑے بھڑے گا نہیں۔اس لئے لڑائی فساد کے نقصانات سے بچارہے گا۔یا اگر کوئی محنت بد کاری نہ کرے گا۔تو دنیا میں زنا کے ارتکاب اور آخرت میں بدکاری کی سزا سے نہیں مل سکتی۔ہاں ایک طرح سے یہ لوگ میٹھی میں تکالیف اٹھا سکتے ہیں۔وہ یہ کہ ایسا حلیم شخص دیوئی کا مرتکب ہو سکتا ہے۔یا ایس طبیعی صابر الستان