مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 671
46۔دار إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظُومُ كَفَّار (ابراہیم (۳۵) ترجمه انسان یقیناً بڑا ہی ظالم (اور) بڑا ہی ناشکر گذار ہے۔اس قسم کے سوال سے ظاہر ہے کہ لوگ ہر بیماری اور موت کی تکالیف کو گناہ کی سزا سمجھتے ہیں جبھی تو ایک معصوم بچے کے مرض کی تکلیف پر اعتراض کیا جاتا ہے۔حالانکہ ہی تکلیف ایک نبی کو بھی ہو سکتی ہے۔جو بچوں سے زیادہ معصوم ہے۔یہاں تو معصومیت اور گناہ کا سوال ہی نہیں ہے۔بلکہ صرف سوال یہ ہے کہ بیماری اور تکلیف دنیا میں کیوں ہے۔1۔امن کے زمانہ میں تمیم دل لوگ بعض غلط نظریے قائم کر لیتے ہیں۔اگر ان کو فوجی زمانوں کا حال معلوم ہوتا۔اور قوموں کی کشمکش کی تاریخیں یاد ہو ہیں۔علیم نباتات اور علیم حیوانات سے واقف ہوتے۔اور کروڑوں اربوں ادنی مخلوقات کا پیدا ہو کہ بظاہر بلا وجہ فنا ہوتے نظر آتا۔اور مخلوقات کا ہر وقت ایک دوسرے کو کھائے جانے کا علم ہوتا۔اور ان کے سفر زیادہ دراز اور تجربے زیادہ وسیع ہوتے۔پھر تو شاید وہ خدا کو ظالم نہیں بلکہ اظلم قرار دیتے (نعوذ باللہ) حالانکہ یہ سب باتیں اس کی بعید دست قدرت۔لا انتہا علم اور لیے نہایت حکمت کی گواہ اور شاعر ہیں۔کم علم اور کم عقل انسان ما تعالی کی چند مصلحتوں پر حاکم نینا چاہتا ہے۔اور اس کو خدا کے زیادہ عظیم الشان کام اور پیر مصیبت مصالح نظر آجائیں۔تو شاید اس کا کلیجہ ہی پھٹ جائے۔ہمارا رب بے شک رحیم کریم ہے۔بلکہ رحم و شفقت کا منبع ہے لیکن سوائے رحم کے اس کی اور صفات بھی ہیں۔اگر وہ نہ ہوتیں۔تو یہ کارخانہ عالم بھی نہ چل سکتا۔جہاں وہ ریم کریم ہے۔وہاں وہ مالک یوم الدین بھی ہے منتقیم بھی ہے۔ضار مانع۔مذل اور NANON بھی ہے۔ورنہ وہ رب العالمین اور کامل خدا نہ ہوتا۔ہاں یہ درست ہے کہ اس کی رحمت ہمیشہ اس کے غضب پر غالب ہے۔اور اس کا غضب اس کی رحمت ہی