مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 649
۶۴۸ جائے۔تو ان کا سب اطمینان کا فور ہو جاتا ہے۔کیونکہ اس کی پشت پر بصیرت تجربہ اور علم نہیں ہوتے۔مگر مومن چونکہ قدم قدم پر ذاتی مشاہدہ اور تجربہ اور بصیرت رکھتا ہے اس لئے نہ وہ شکوک وشبہات میں مبتلا ہوتا ہے نہ بیشارات اللہ اُسے گھبراہٹ میں پڑنے دیتی ہیں۔اس پر جب مصائب آتے ہیں تو ساتھ ہی غیبی اطلاع - ردیا۔الہام اور سکینت بھی آتے ہیں اور طرح طرح کی ایسی نصرتی اور تائیدات الہیہ دیکھتا ہے کہ اس کا ایمان اور اطمینان پہلے سے بھی زیادہ اپنے خداوند خدا پر ہو جاتا ہے۔حضرت یعقوب علیہ السلام پر بیٹے کی جدائی آئی تو ساتھ ہی بلکہ اس سے پہلے ہی یوسف کی اپنی رویا نے اسے مطمئن کر دیا۔اور خدا تعالیٰ نے وہ وقتاً فوقتاً دونستی فرمانی که همیشه يا بني اذهبو نتحسسوا من يوسف و اخيه ولا تائيسوا من روح الله ہی کا وعظ کرتے رہے اور آخر میں بھی یہی فرمایا کہ الم اقل لكم اني اعلم من الله ما لا تعلمون بے شک ان کو یوسف کا غم تھا۔مگر آخر فصبر جمیل کہنے والے بھی تو وہی تھے۔ان کے حزن میں اضطرارا کرب اور بے صبری کا رنگ نہ تھا۔بلکہ ان کا حزن ایمان توکل اور امیدوں سے بھرا ہوا تھا۔اپنے غم کے آنسوؤں سے بھری ہوئی آنکھوں کو دامان الوہیت سے پونچھنے والے اور رحمت خداوند سے تسلی پانے والے بھی تو وہی حضرت تھے۔یہ درد سے اور غیب کی اطلاعات اور بشارات اور تسکین اور نصرتیں سوائے اسلام کے ہرگز کسی اور مذہب کے انسان کو نہیں میں۔اور یہی وہ چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ہمارا ایمان آخرت پر قائم ہے۔درنہ دوسرے اہل مذاہب خواہ منہ سے کچھ کہیں آخرت کے بارہ میں بالکل کورسے ہیں۔(روزنامہ الفصل ۱۶ مکی ۱۹۴۴ء)