مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 647 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 647

جیسے ایک بچہ کو اپنی ماں کی گود ہیں۔لیکن بچہ کو تکلیفیں بھی آتی ہیں۔روتا بھی ہے بیچنا ہے۔پیار بھی ہوتا ہے۔مگر اس کا اطمینان زائل نہیں ہوتا۔اور اپنی ماں پر وہ ہمیشہ پختہ توکل رکھتا ہے اور اسی سے تسکین پاتا ہے اور اسی کے ساتھ اس کا ولی آرام وابستہ ہے۔خواہ اس کی گود میں اس کا دم بھی نکل جائے۔مگر وہ غیر سے راحت نہیں پاسکتا۔یہی حال بعینہ اس مومن کا ہوتا ہے۔جو اپنے رب کی رضا حاصل کر لیتا ہے۔خواہ اس دنیا میں بطور امتحان و ابتلاء کے اس کو کتنی ہی تکالیف پہنچیں۔کیونکہ اسے خدا کے سوا اپنا محسن حقیقی کوئی بھی نظر نہیں آتا پس وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ کے معنی یہ ہیں کہ دائمی خوف اور حزن ان کو نہیں پہنچ سکتا۔صرف عارضی اور وہ بھی بشارات الہیہ سے مرکب ہو کر ملتا ہے۔دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ ان کو آخرت کے متعلق کوئی خوف اور حزن نہیں ہوتا دل امیدوں سے بھر پور اور شوق لقاء الہی سے معمور ہوتا ہے اور دنیا کی تکالیف بالکل بے حیثیت اور بے حقیقت معلوم ہوتی ہیں۔انسان مدنی الطبع ہونے کی وجہ سے جین لوگوں کی مصاحبت اور رفاقت کا عادی ہو جاتا ہے۔ان کی جدائی اسے قدرتی طور پر رنج پہنچاتی ہے مگر خدا کی معیت کا خیال اُس کو طاقت دیتا ہے۔اور کسی کے مرنے سے اس پر دیوانوں کی سی حالت طاری نہیں ہوتی۔بلکہ وہ صرف انا للہ پڑھ کر صبر کرتا ہے۔اور کسی مخلوق کو اپنا رب خیال نہیں کرتا۔وہ تعزیزوں کی جدائی کی وجہ سے رد بھی لیتا ہے جیسا کہ چوٹ کی وجہ سے کوئی شخص آبدیدہ ہو جاتا ہے مگر پھر اس جگہ کو سہلا کر اور اپنے رب کو اپنے قریب پا کر ہنس بھی دیتا ہے۔سو اس قسم کا حزن منع نہیں ہے جو عارضی چوٹ کی طرح ہو۔مگر بد بخت ہے وہ شخص جو ہر وقت خوف وحزن میں گھرا ہوا ہے۔اُسے آخرت اور جنت اور قرب الہلی کی کچھ خبر نہیں۔اور جو مصیبت بھی اس پر آتی ہے۔وہ ایک دائمی شکل اختیار کر لیتی ہے اور نجات و فلاح کی اُمید کا نشہ اس کے دل و دماغ پر چھایا ہوا نہیں۔مومن تو دنیا کے لیے سے لیے اور بڑے سے پیسے دُکھ اُٹھائے گا۔کہ حد سے حدیہ دُکھ دس ہیں پچاس سال تک چلیں گے پھر