مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 626 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 626

۶۲۵ دستے میں نے کہا اشهد ان لا الهَ إِلَّا اللهُ وَاشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الله س کر مسلمانوں نے تکبیر کے نعرے اس زور سے بلند کئے کہ تمام مکہ گونج اٹھا۔اس کے اب مجھے یہ جوش اٹھا کہ یا تو مسلمانوں کو یہ کا فرلوگ مارا نہ کریں ورنہ پھر مجھے بھی ان کی طرح مار پیا کر رہے۔اور جو مصیبت عام مسلمانوں کو پہنچتی ہے مجھے بھی پہنچے۔یہ ارادہ کر کے میں اپنے ماموں کے پاس گیا۔اور ان سے کہا کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں۔انہوں نے مجھے بہت کہا۔کہ اس دین کو چھوڑ دو۔مگر میں نے یہی جواب دیا کہ نہیں۔آخر انہوں نے مجھے گھر سے باہر نکال کر دروازہ بند کر لیا ہیں تنے کہا۔کچھ لطف نہ آیا۔مار نہیں پڑی۔اس کے بعد میں قریش کے سب ریکسوں کے دروازہ پر گیا اور اسی طرح اپنے اسلام کا اظہار کیا۔مگر کسی نے مجھے نہ مارا۔صرف گھر سے باہر نکال دیا۔میں نے پھر ہی کہا۔کہ کچھ مزا نہ آیا۔آخر ایک شخص نے مجھ سے کہا۔کہ عمر کیا تم اپنے اسلام کا اصلات کرنا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا۔ہاں۔اس پر اس نے کہا۔کہ جب سب رئیں کعبہ میں جیسے ہوں۔اس وقت جمیل کو کہ دنیا دہ ڈھنڈورہ دے دے گا۔میں نے کہا۔اچھا۔جب لوگ کعبہ میں جمع ہو گئے۔تو میں نے جیل کے کان میں چپکے سے کہ دیا کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں۔اس نے اسی وقت فکل مچا دیا۔بیسن کر سب لوگ مجھ پر پل پڑے۔اور مارنے لگے ہیں بھی انہیں مارنے لگا۔اتنے میں میرے ماموں نے مجھے پہچان لیا۔اور بآواز بلند کہا۔لوگو ! میں اپنے بھانچے کو پناہ دیتا ہوں۔یہ سن کر لوگ پرے ہٹ گئے۔اس کے بعد پھر میں نے یہی دیکھا۔کہ لوگ مجھے تو کچھ نہیں کہتے مگر اور تقریب سلمان روزانہ مار کھاتے ہیں۔یہ دیکھ کر پھر مجھ سے نہ رہا گیا۔اور ایک دن جب لوگ کعبہ میں جمع ہوئے۔تو میں نے اپنے ماموں سے کہا۔کہ بیٹے ہیں آج سے آپ کی پناہ واپس کر تا ہوں۔انہوں نے ہر چند مجھے منع کیا۔مگر میں نے نہ مانا۔اور ان کی پناہ لوگوں کے سامنے واپس کر دی۔اس کے بعد نہیں برا بہ مشرکوں کی مار کھاتا رہا۔اور مارتا بھی رہا۔یہاں تک کہ خدا تعالے نے اسلام کو غالب کر دیا۔ایک دن حضرت عمر نہ پر لوگوں نے حملہ کیا۔اور ان کو کعبہ میں خوب مارا۔انہوں نے