مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 613 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 613

چاہیے۔کھا نہیں سکتا ہے۔یا جہاں چاہیے اپنا مال خرچ کر سکتا ہے۔پیپسی دونوں میں اتنا ہی بھاری فرق ہے جتنا ایک آزاد اور قیدی ہیں۔آپ کس طرح غلاموں کے مسائل کو آزاد لوگوں پر لگا سکتے ہیں ؟ شائد آپ نے یہ سُنا ہوا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کے بھی حقوق کھانے پینے اور مشقت محنت وغیرہ میں رکھے ہیں جتنے آقاؤں کے۔آپ نے دیکھا کہ غلام تو نظر نہیں آتے چلوان حقوق کو آزاد ملازمین پر چسپاں کر دو۔حالانکہ یہ بالکل نامناسب اور فلط فتویٰ ہے کہ ایک جماعت کا فتویٰ دوسری جماعت پر لگا دیا جائے۔اگر یہ بھی ہے تو پھر ہم کو نوکروں کے کپڑے بھی آقاؤں جیسے بنانے پڑیں گے اور میں روٹیاں باورچی پکائے گا تو ہیں بابو صاحب پکائیں گے۔اسی طرح ڈپٹی صاحب کا چپڑاسی ہفتہ میں تین دن ڈاک لے جائے گا اور تین دن وہ خود لے جائیں گے اور صبح کو مہترانی پاخانہ کرائے گی اور شام کو گھر مالی خود - کیونکہ غلاموں کے لئے نہ صرف کھانے پینے کے حقوق برابر ہیں۔بلکہ کپڑے اور شفت و محنت میں بھی ان کے لئے برابری کے حقوق مقرر کر دیئے گئے ہیں۔بر خلاف اس کے نوکر ایک ایسا آزاد شخص ہے کہ وہ جب چاہے ملازمت اختیار کر سکتا ہے۔جب چاہے ترک کر سکتا ہے۔بعض تنخواہ لیتے ہیں۔بعض کھانا ، کپڑا اور ساتھ ہی تنخواہ بھی لیتے ہیں۔لیکن عقل اور شریعت کے نزدیک وہ مزدور ہیں۔اور ایک مزدورہ ایک غلام کی طرح اپنے آقا کا برابر کا شریک نہیں ہے۔وہ آزاد ہے بلکہ جس دن ناراض ہوتا ہے کبھی کبھی تو وہ آقا اور اس کے گھر والوں کو دس گالیاں دے کر نکل جاتا ہے اور کھنا لکھن اپنا حساب گیتوا لیتا ہے۔پھیلا اس کا اور غلام کا کیا مقابلہ ہے اور غلام کے مسائل کو مزدور پر کیوں تھوپا جاتا ہے ؟ تو کر یعنی مزدور کو وہی کھانا ملے گا جو عرف عام میں اس ملک کے تو کر دن کو ملا کرتا ہے۔ورنہ اس نئے مسئلہ کے مطابق تو گھر کے دستر خوان پر سب ملازمین کو گھر والوں کے برابر بیٹھ کر کھانا کھانا چاہیئے۔اور گھر میں جو پھل میوہ تحفہ تخالف آئیں۔وہ سب ملازمین کے ساتھ برابر کے حصہ میں بانٹ لینے چاہئیں۔پس دو مختلف حالات کو غلط طور سے گریڈ کہ