مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 602 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 602

이 پس میری نصیحت یہ ہے کہ سوائے اشد ضرورت کے عمومی طور پر برف ہوٹل کا رواج اٹا دیا جائے۔ہاں مہمان کے لئے یا کبھی سخت گرمی ہو یا طبیعت بیمار ہو تو بے شک یہ بھی خدا کی نعمت ہے مگر آج کل تو یہ نعمت زحمت بنی ہوئی ہے۔یہی حال آئس کریم کا ہے جو آج کل وباء کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔-۲ نئے اور بُری عادتیں مر حرام نشوں کے علاوہ بعض مکروہ نشے بھی ہیں۔جو ہمارے اخراجات بڑھانے کا باعث ہیں۔اور ان میں سے مشہور یہ ہیں۔پان ، زردہ ، حقہ سگریٹ ، نسوار یعنی ہلاکس - پوست - افیون اور کسی حد تک چائے۔عادت کی غلامی کے علاوہ یوں بھی عمو گا یہ سب کسی نہ کسی طرح کا نقصان انسانی صحت کو پہنچاتے ہیں۔اور اس زمانہ میں تو لوگوں نے مفید اشیاء کا ناشتہ ترک کر کے عادتا چائے کو اختیار کر لیا ہے جس کے نتیجہ میں وہ نقصان اٹھاتے ہیں۔خواہ وہ نقصان مالی ہو یا صحت کا یا اخلاقی۔دوسروں کا کیا کہوں۔خود میرے ہاں ایک آنہ سے دو آنہ تک روزانہ کے پان آتے ہیں۔حالانکہ ہمارے ہاں کوئی بھی ترده یا تمباکو نہیں کھاتا۔مگر کیا ہے ؟ صرف ایک عادت اور وہ بھی نقصان ده یعنی دانت نگین ہو جاتے ہیں۔منہ ہر وقت چلتا رہتا ہے۔ہونٹ سرخ رنگے جاتے ہیں اور بائی خر اکثر پاپن کھانے والے تمہا کو کے چکر میں آجاتے ہیں اور ایک عادت سے دوسری عادت کی طرف ترقی کرتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض گھروں میں کئی روپے ماہوار کی صرف چائے خرید ہی جاتی ہے اور جو زردہ کھاتے ہیں۔وہ تنباکو سے ترقی کر کے خوشبو دار قوام اور مفرح گولیوں تک پہنچتے ہیں۔جو نہ صرف نقصان دہ ہیں۔بلکہ بہت قیمتی چیزیں ہیں جن پر لاکھوں روپیہ امراء اور شوقینوں کا سالانہ خرچ ہو جاتا ہے۔یان زردہ سے بڑھ کر سگریٹ ہیں جو ہر وقت جیب میں رہ سکتے ہیں۔میں نے بعض شخصوں کو دیکھا۔جو روزانہ پچاس سگریٹ تک پی جاتے ہیں۔اور بعض محقہ نوش لوگوں کو دیکھا ہے کہ خوشبو کے لئے قیمتی مصالحے تمہا کو میں ملاتے ہیں۔اور اس طرح اپنا مال ضائع کرتے ہیں