مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 580
اسی طرح ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے روبار میں دکھایا گیا کہ میں نے دودھ پیا۔یہاں تک کہ میرے ناخنوں تک اس کی تری پہنچ گئی۔پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر بن خطائی کو دے دیا۔صحابہ نے عرض کیا اس کی تعبیر کیا ہے ؟ فرمایا اس سے مراد علم ہے۔پس جس طرح حضرت عمرہ کو نبوت کے علم میں سے حقہ ماتھا۔اسی طرح حضرت فضلی کو بھی وہی حقہ ملا ہے۔اور دوست دشمن اس کرامت کے معروف ہیں۔زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں صرف یہ یادرکھنا کافی ہوگا کہ حضرت عمران کی کام کرنے کی طاقت اور آنجناب کا علم جن کا ہم نے نمبر ٢ اور غیر ی میں ذکر کیا ہے۔ایسا ہی حال حضرت فضل عمر کا بھی ہے کہ جسمانی کام کی قوت اور علمی قوت دونوں کا مظاہرہ قریباً قادیان میں رہنے والے احمدی کے سامنے ہوتا رہتا ہے اور اسی کی طرف حضرت مسیح موعود کے اس الہام میں اشارہ ہے کہ ایک فرزند تمہیں عطا کیا جائے گا۔جو قوی الطاقین ہوگا۔اور یہ کہ وہ علوم ظاہری اور باطنی سے پر کیا جائے گا۔۴ حضرت عمر رض اپنی اس بات پر بھی فخر کیا کر تے تھے کہ میں نے بعض دفعہ جو باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیں تو میری عرضداشت کے اور میری مرضی کے مطابق قرآنی آیتیں بھی نازل ہو گئیں۔منجملہ ان کے ایک آیت حجاب بھی ہے حضرت فضل عمر کی عمر حضرت مسیح موعود (آپ پر سلامتی ہو) کے زمانہ میں اتنی تو نہ تھی کہ وہ حضور کو کوئی مشورہ دیا کرتے۔لیکن ایک بزنگ توار د الہامی کا یہاں بھی پایا جاتا ہے۔اس کی مثال وہ رد یا حضرت فضل عمر کی ہے جس میں آپ نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود آپ پر سلامتی ہو) کو انى مع الافواج انيك بغتة والا الہام ہوا ہے۔چنانچہ جب حضرت مسیح موعود ر آپ پر سلامتی ہوا سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ