مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 544 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 544

۵۴۳ بھی لیا۔تب آپ کو تکتی ہوتی۔اسی طرح خواجہ صاحب کا بڑا خیال رکھتے اور بار بار دریافت فرمایا کرتے کہ کوئی مہمان بھوکا تو نہیں رہ گیا یا کسی کی طرف سے ملازمان لنگر خانہ نے تعامل تو نہیں کیا۔بعض موقعہ پر ایسا ہوا کہ کسی مہمان کے لئے سائن نہیں بچا یا وقت پر ان کا کھانا رکھنا بھول گیا تو اپنا سالن یا سب کھانا اس کے لئے اٹھوا کر بھیجوا دیا۔بار ہا ایسا بھی ہوا کہ آپ کے پاس تھنے میں کوئی چیز کھانے کی آئی یا خود کوئی چیز آپ نے ایک وقت منگوائی پھر اس کا خیال نہ رہا اور وہ صندوق میں پڑی پڑی سڑ گئی۔خراب ہو گئی۔اور اسے سب کا سب پھینکنا پڑا۔یہ دنیا دار کا کام نہیں۔ان اشیاء میں سے اکثر چیزیں تحفہ کے طور پر خدا کے وعدوں کے ماتحت آتی تھیں۔اور بار ہا ایسا ہوا کہ حضرت صاحب نے ایک چیز کی خواہش فرمائی اور وہ اسی وقت کسی تو دار و یا مرید با اخلاص نے لاکہ حاضر کر دی۔آپ کو کوئی عادت کسی چیز کی نہ تھی۔پان البتہ کبھی کبھی دل کی تقویت یا کھانے کے بعد منہ کی صفائی کے لئے یا کبھی گھر میں سے پیش کر دیا گیا تو کھا لیا کرتے تھے۔یا کبھی کھانسی نزلہ یا گلے کی خواہش ہوئی تو بھی استعمال فرمایا کرتے تھے۔حقہ تمباکو کو آپ ناپسند فرمایا کرتے تھے۔بلکہ ایک موقع پر کچھ حقہ نوشوں کو نکال بھی دیا تھا۔ہاں جن ضعیف العمر لوگوں کو مدت العمر سے عادت لگی ہوئی تھی ان کو آپ نے بسبب مجبوری کے اجازت دے دی تھی۔کئی احمدیوں نے تو اس طرح پر حقہ چھوڑا کہ ان کو قادیان میں وارد ہونے کے وقت حقہ کی تلاش میں نیکیوں میں یا مرزا نظام الدین وغیرہ کی ٹولی میں جانا پڑتا تھا۔اور حضرت صاحب کی مجلس سے اٹھ کر وہاں جانا چونکہ بہشت سے نکل کر دوزخ میں جانے کا حکم رکھتا تھا اس لئے با غیرت لوگوں نے ہمیشہ کے لئے حقہ کو الوداع کہی۔ہاتھ دھونا وغیرہ کھانا سے پہلے عموما اور بعد میں ضرور ہاتھ دھویا کرتے تھے۔اور سردیوں میں اکثر