مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 517
۵۱۶ پھر ہم آگے چلے۔تو ایک غار دیکھا۔جس کا منہ تنگ تھا۔مگر اندر اس کے بہت جگہ تھی۔اس میں آگ جل رہی تھی اور اس آگ میں ننگے مرد اور ننگی عورتیں جل رہی تھیں جیب آگ زور سے بھڑکتی۔تو وہ لوگ اس کے شعلوں کے ساتھ اُچھلتے تھے۔میں نے پوچھا۔یہ کون لوگ ہیں تو مجھے بتایا گیا کہ یہ بد کار لوگ ہیں۔پھر ہم آگے چلے۔تو دیکھا کہ ایک خون کی نہر ہے۔میں کے بیچ میں ایک آدمی کھڑا ہے اور ایک آدمی اس کے کنارے پر کھڑا ہے کنارے والے آدمی کے پاس بہت سے پتھر رکھے تھے۔جب اندر والا آدمی باہر نکلنا چاہتا تو باہر والا پتھر کھینچ کر اس کے منہ پر مارتا جس سے وہ پھر بیچ میں جا پڑتا ہے میں نے پوچھا۔یہ کیا ہے۔جواب ملا کہ یہ سود کھانے والا شخص ہے۔پھر ہم آگے گئے۔تو ایک نہایت سرسبز باغ میں پہنچے۔اس میں ایک بڑا بھاری درخت تھا۔اور اس درخت کی جڑ میں ایک بزرگ بیٹھے تھے۔ان کے گرد بہت سے بچے بھی تھے۔اور درخت کے پاس ہی بیٹھا ہوا ایک اور شخص آگ دہک رہا تھا۔میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں۔جواب ملا کہ یہ بزرگ حضرت ابراہیم ہیں۔اور بچے جوان کے گرد ہیں۔یہ وہ بچے ہیں جو چھوٹی عمر میں معصوم مر گئے ہیں۔اور یہ شخص جو اگ درکا رہا ہے۔یہ دوزخ کا داروغہ مالک نام ہے۔پھر میرے دونوں رفیق مجھے ایک درخت پر چڑھا لے گئے۔اوپر جا کر میں نے ایک گھر دیکھا۔وہ مجھے اندر لے گئے وہاں بہت سے جوان مرد اور عورتیں اور بچے تھے۔پھر اس گھر سے نکل کر مجھے درخت کی دوسری شاخ پر لے گئے۔وہاں بھی ایک گھر تھا۔اور بہت شاندار اور خوبصورت تھا۔اور اس میں بہت سے بڑھے اور جوان تھے میں نے پوچھا یہ گھر کیسے ہیں۔میرے ساتھیوں نے کہا کہ پہلا گھر تو مام جنتیوں کا ہے۔اور دوسرا شہیدوں کا۔پھر میں نے پوچھا کہ تم دونوں شخص کون ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم جبرائیل اور میکائیل ہیں۔اور انہوں نے مجھے کہا۔کہ ذرا اپنا سر اٹھا کر دیکھئے تو میں نے دیکھا کہ بادل کی طرح اوپر کوئی چیز ہے میں نے کہا کہ یہ کیا۔انہوں نے کہا۔کہ یہ آپ کا گھر ہے۔میں نے کہا ذرا مجھے اس