مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 486
۴۸۵ اور اعلان فرمایا کہ اسے حاضرین گواہ رہو۔آج سے میں زید کو آزاد کرتا ہوں۔اور اب یہ میرا بیٹا ہے اور میں اس کا وارث ہوں۔اور یہ میرا وارث ہے۔جب زید کے والد اور چانے یہ حال دیکھا تو ان کو تسلی ہو گئی اور خوشی خوشی اپنے گھر کو واپس چلے گئے۔یہ واقعہ نبوت سے پہلے کا ہے۔پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی ہونے کا دعوی کیا اور لوگوں کو مسلمان بنانا شروع کیا۔تو زید بھی فور مسلمان ہو گئے۔سب سے پہلے مسلمان آپ کے گھر کے لوگ ہی تھے۔یعنی حضرت خدیجہ آپ کی ہوئی۔حضرت علی مہم جو آپ کے چیرے بھائی تھے اور آپ کے پاس ہی رہتے تھے۔اور حضرت زید جو آپ کے منہ بولے بیٹے تھے۔جب زید بڑے ہو گئے تو آپ نے اپنی پھوپھی کی بیٹی زینب سے ان کا نکاح کر دیا۔حالانکہ قریش اتنی ناک والی قوم تھی۔کہ غلاموں کو وہ جانوروں سے زیادہ ذلیل سمجھتے تھے۔زید کے آزاد ہو جانے کے بعد لوگ ان کو زید بن محمد (یعنی محمد کا بیٹا زید ) کہا کرتے تھے۔پھر مدینہ میں جب یہ خدا کا حکم قرآن میں نازل ہوا کہ کسی کا بیٹا اپنا پیٹا نہیں ہے۔اور جس کا بیٹا ہو اسی کے نام سے پکارا جائے تو اس وقت سے پھر وہ زید بن حارثہ کہلانے لگے۔خدا کا خوف حضرت عائشہ نہ فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان پر بادل یا آندھی دیکھتے تو گھبرا جاتے کبھی اندر آتے کبھی باہر جاتے اور آپ کے چہرہ کا رنگ متغیر ہو جاتا۔پھر حبب بارش شروع ہو جاتی۔تو آپ کی وہ حالت دور ہو جاتی ہیں نے عرض کیا۔یارسول اللہ یہ کیا بات ہے آپ نے فرمایا کہ مجھے خوف آتا ہے کہ یہ ویسا عذاب الہی نہ ہو جیسا کہ عاد کی قوم پر آیا تھا۔