مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 483
FAT ٹکڑے نے مجھ پر سایہ کر لیا۔اور اس میں جبرائیل علیہ السلام تھے۔انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی تبلیغ اور ان لوگوں کا سلوک دیکھ لیا۔اور اللہ نے آپ کے پاس پہاڑوں کے فرشتہ کو بھیجا ہے۔اور آپ کو اجازت دی ہے کہ جو چاہیں آپ اسے حکم کریں۔پھر مجھے پیائیوں کے فرشتے نے آواز دی اور سلام کیا۔اور کہا کہ اسے محمد اس وقت جو آپ چاہیں میں کردوں۔اگر اجازت ہو تو یہ دونوں سامنے والے پہاڑ ان لوگوں پر رکھ دوں۔میں نے کہا نہیں میں یہ نہیں چاہتا مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔اللَّهُمَّ عَلى عَلَى مُحَمَّدٍ خیر آپ نے ان اوباشوں کے ظلم سے ایک باغ میں پناہ لی۔وہ باغ آپ کے مکہ کے پرانے دشمنوں غلبہ اور شیبیہ کا تھا۔اس وقت وہ دونوں وہیں باغ میں موجود تھے۔آپ کی مصیبت دیکھ کر ان دشمنوں کو بھی اس وقت ترس آگیا۔چنانچہ انہوں نے اپنے ایک عیسائی غلام عداس نامی کو بلا کر کہا کہ ایک خوشه انگوروں کا لے کر اس شخص کو دے آج فلاں جگہ بیٹھا ہے۔عداس انگور لے کر حاضر ہوا۔اور پیش کر کے کہا کہ اسے کھائیے۔آپ جب کھاتے لگے تو پہلے بسم اللہ پڑھی۔عداس نے آپ کے چہرہ کو غور سے دیکھا۔اور کہا کہ خدا کی قسم یہ کلام تو اس شہر کے لوگ نہیں پڑھا کرتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تم کہاں کے رہنے والے ہو۔اور تمہارا کیا دین ہے بعد اس نے کہا میں عیسائی ہوں اور مینوں کا رہنے والا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ پھر تو تم یونس کے شہر والے ہو۔عداس نے کہا آپ کیا جانیں کہ یونی کون تھے اغضرت صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ میرے بھائی تھے۔میں بھی بنی ہوں اور وہ بھی نبی تھے۔پشن کر عد اس جھکے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور ہاتھوں کو بوسہ دیا۔یہ نظارہ قیہ اور شعیبہ نے بھی دور سے دیکھا اور کہنے لگے لو اس شخص نے ہمارے غلام کو بھی گراہ کر دیا۔جب غلام ان کے پاس واپس آیا۔تو انہوں نے کہا۔کم بخت تو نے اس شخص کے سر اور ہا تھوں کو کیوں بوسہ دیا۔مداس بوہلے حضور اس وقت اس شخص سے بہتر اور کوئی شخص پر وہ