مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 482 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 482

۴۸۱ ہوتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی دو آدمی ایک اونٹ میں شریک تھے۔جب وہ عرض کرتے کہ یا رسول اللہ آپ سوار رہیں۔ہم پیدل چلیں گے۔تو آپ فرماتے کہ تم مجھے سے زیادہ پیدل نہیں چل سکتے۔اور میں بھی تمہاری طرح ثواب کا محتاج ہوں۔چنانچہ آپ ان کو اپنی اپنی باری پر سوار کرا دیتے اور خود پیدل چلتے۔آپ لین دین کے کھرے تھے خالد بن عمیر ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دفعہ مکہ گیا۔ان دنوں انحصرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے۔اور ابھی ہجرت نہیں ہوئی تھی۔وہاں میں نے ایک پاجامہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ فروخت کیا۔حضور نے اس کی قیمت میں مجھے چاندی دی۔اور جب آپ نے وہ چاندی تولی۔تو خوب جھکتی ہوئی تولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے زیادہ سختی کا دن (طائف) ایک دن حضرت عائشہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ کیا احد سے بھی زیادہ سختی کا کوئی دن آپ پر آیا ہے۔آپ نے فرمایا یہ کہ میں نے تمہاری قوم تریشر سے جو مصیبتیں اٹھائی ہیں وہ احد سے بہت بڑھ کر ہیں۔اور سب سے زیادہ تکلیف مجھے اس دن پہنچی۔جس دن میں طائف میں عبدیالیل کے پاس گیا اور اس نے میری دعوت رو کردی۔میں نہایت رنج و ملال کے ساتھ وہاں سے چل نکلا۔ان لوگوں نے وہاں کے شہرے اور اوباش میرے پیچھے لگا دیئے۔اور انہوں نے کئی میل تک مجھے ہوش نہ آنے دیا۔اتنا مارا اور پتھر رہائے کہ مجھے معلوم نہ تھا کہ کدھر جا رہا ہوں۔میں نے اپنا منہ بچانے کے لئے اپنا سر نیچے کر رکھا تھا۔اور میرے ہوش و ہو اس سیجا نہ تھے۔یہاں تک کہ پتھروں کی بارش قرن الثعالب میں جا کہ بند ہوئی تو میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور دیکھا کہ ایک اکبر کے