مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 476
۴۷۵ میں پانی بھرا۔اس جوتی کو دانتوں سے پکڑ کر کنویں سے باہر آئی۔اور اس کتے کو پانی پلایا۔اللہ تعالٰی کو اس کا یہ کام ایسا پسند آیا۔کہ اس کے پچھلے سب گناہ اس نے بخش دیئے۔اور اس کے دل میں نیکی کی محبت اور گناہ کی نفرت ڈال دی۔یہاں تک کہ اس نے توبہ کر لی۔اور آخر جب مری تو جنت میں داخل ہوئی۔صحابہ نے عرض کیا۔یا رسول اللہ کیا جانوروں کی خدمت سے بھی میں ثواب ملے گا ؟ آپ نے فرمایا۔ہاں ہر جاندار کی خدمت میں ثواب ہے۔بھوکوں کو خدا رزق دیتا ہے حضرت ابو سعید صحابی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کوکسی کام کے لئے سفر پر بھیجا۔یہ لوگ ایک دن ایک عرب کے قبیلہ کے نزدیک اُترے اور ان لوگوں سے کہا کر ہم مسافر ہیں۔ہمارے کھانے کا بندوبست کرد۔ان لوگوں نے صحابہ کو کھانا کھلانے سے انکار کر دیا۔تھوڑی دیر نہ گزری تھی۔کہ اس قبیلہ کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا۔لوگوں نے بہترے علاج کئے مگر کچھ فائدہ نہ ہوا۔اور وہ مرنے کے قریب ہو گیا۔کسی نے کہا وہ جو مسافر اُترے ہوئے ہیں۔شائد ان میں سے کوئی سانپ کے کاٹے کا علاج یا منتر جانتا ہو۔چنانچہ وہ لوگ صحابیہ کے پاس آئے اور حال بیان کیا کہ ہمارے سردار کو سانپ ڈس گیا ہے۔اگر تم میں سے کوئی شخص اس کا علاج جانتا ہو تو ہمارے ساتھ چلے۔ایک صحابی نے جواب دیا کہ ہاں مجھے اس کا منتر آتا ہے۔مگر چونکہ تم نے ہماری دعوت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔اس لئے اب میں اُجرت لے کر علاج کروں گا۔مفت نہیں کروں گا۔اس پر ان لوگوں نے کچھ بکریاں دینے کا اقرار کیا۔جب معاملہ طے ہو گیا تو وہ صحابی گئے۔اور انہوں نے المحمد کی سورت پڑھ کہ اس بیمار پر پھونکنی شروع کی۔جوں جوں وہ دم کرتے جاتے تھے۔اس شخص کو ہوش آتا جاتا تھا۔یہاں تک کہ تھوڑی دیر میں وہ اُٹھ بیٹھا اور اچھا ہو گیا۔اس پر ان لوگوں نے وعدہ کی بکریاں صحابیہ کر دیدیں۔یکریاں سے کہ صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم