مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 462
ایک دن انہوں نے خواب میں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔اسے بلال رضہ تم تو ہمارے پاس سے چلے ہی گئے۔کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم مدینہ اگر ہماری زیارت کرو۔یہ خواب دیکھ کر حضرت بلال و جمع اُٹھتے ہی سیدھے مدینہ کی طرف چل کھڑے ہوئے۔اور آنحضرت کی قبر مبارک پر حاضر ہوئے اور اس سے لپٹ لپٹ کر خوب روئے۔اتنے میں حضرات حسنی اور حسینی بھی وہیں آگئے۔بلال نے ان کو پیار سے اپنے گلے لگا لیا۔انہوں نے بلال سے کہا۔ہمارا جی چاہتا ہے کہ آج آپ اذان دیں۔چنانچہ حضرت بلال خان کے کہنے پر مسجد نبوی کی چھت پر چڑھے۔اور جب انہوں نے اپنی طرز پر اللہ اکبر اللہ اکبر کہا تو سارا مدینہ ہل گیا۔اور لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ یاد آ گیا۔جب انہوں نے اَشْهَدُ أَنْ لا إِلهَ إِلَّا الله کہا۔تو تمام شہر میں ایک نکل بر پا ہوگیا۔اور لوگ چیخیں مار مار کہ رونے لگے۔پھر جب اشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہ کہا اور آنحضرت صلی الله علیم کا نام لوگوں نے ان کی زبان سے شنا- تو یہ حالت ہوگئی کہ مرد تو مرد پردہ دار عورتیں ہیں ہوتی بیٹی گھروں سے باہر نکل آئیں۔اور مسجد نبوی اور مدینہ کے گلی کوچوں میں وہ کہرام مچا کہ لوگوں کے کلیجے پھٹ پھٹ گئے۔اور خود بلال نے بھی غش کھا کر گھر یے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفائی پسندی ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لانے۔تو مسجد میں قبلہ کی جانب کسی کا بلغم لگا ہوا تھا۔آپ کے چہرہ پر ناراضگی کے آثار پیدا ہوئے۔پھر آپ نے اس کو وہاں سے کھر ہوا کہ اس جگہ کو زعفران سے لہوا دیا۔چور ولی ایک دفعہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں حاضر ہوا۔اور عرض