مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 447 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 447

۴۴۶ خیر۔نہ ان لوگوں کے اہل و عیال تھے۔نہ اُن کے پاس مال تھا۔نہ کسی کے ذمر ان کا کھانا تھا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کی کوئی چیز آتی تھی۔تو ان کو دے دیا کرتے تھے۔اور جب کوئی تحفہ آتا۔تو کچھ اپنے لئے رکھ لیتے۔اور باقی ان لوگوں کو بانٹ دیتے تھے۔یہ لوگ آپ کی صحبت میں رہ کر دین کا علم سیکھتے تھے۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ خود فرماتے ہیں۔کہ خدا کی قسم بعض دفعہ بھوک کے مارے میں زمین پر پیسٹ لگا کہ لیٹ جاتا اور بعض دفعہ پیٹ سے پتھر باندھ لیتا تھا۔ایک دن میں فاقہ سے تنگ آکر لوگوں کے رستہ میں بیٹھ گیا۔چنانچہ حضرت ابو بکر رضہ میرے سامنے سے گذرے۔میں نے ان سے قرآن کی ایک آیت کا مطلب پوچھا اور صرف اس لئے کہ مجھے کچھ کھلادیں۔مگر انہوں نے خیال نہ کیا۔اور مطلب بتا کر چل دیئے۔پھر حضرت عمرہ گزرے۔میں نے ان سے بھی اسی مطلب کے لئے ایک آیت پوچھی۔مگر وہ بھی مطلب بتا کہ یونہی چلے گئے۔کچھ دیر گذری اتنے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ و ستم وہیں سے گذرے اور مجھے دیکھ کر مسکرائے اور میرے دل کی بات اور چہرہ کی حالت سمجھ گئے۔اور فرمانے لگے۔اے ابو ہریرہ۔میں نے کہا۔لبنك يَا رَسُولُ اللہ فرمایا میرے ساتھ چلو میں آپ کے پیچھے ہو لیا۔آپ مجھے گھر میں لے گئے ہیں نے دیکھا کہ ایک پیالہ دودھ کا وہاں رکھا ہے۔آپ نے پوچھا یہ کہاں سے آیا۔گھر والوں نے کہا۔یہ آپ کے لئے ایک عورت تحفہ دے گئی ہے۔آپ نے فرمایا کہ ابو س نہ جاؤ سب اصحاب صفہ کو بلالا کہ مجھے یہ بات بہت ناگوار گزری۔اور میں نے خیال کیا کہ اتنا سا تو دودھ ہے کسی کی کے پیٹ میں جائے گا۔بہتر تو یہ تھا۔کہ یہ سب مجھے مل جاتا تو کچھ سہارا ہو جاتا۔اب یہ سب اصحاب صفہ آئیں گے تو میرے لئے خاک بچے گا۔مگر خیر میں اُٹھا اور سب صفر والوں کو اندر گھر میں بلا لایا۔آنحضرت نے فرمایا کہ اے ابو ہریرہ اب تم ان سب کو یہ دودھ پلاؤ۔میں نے وہ پیالہ لیا۔اور ایک آدمی کو دیا۔اس نے پیٹ بھر کہ دودھ اس میں سے پیا اور پھر وہ پیالہ مجھے واپس دے دیار میں نے دوسرے شخص کو وہ پیالہ دیا۔اس نے اپنا پیٹ بھر کہ مجھے واپس کیا۔