مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 415
۴۱۴ اصل اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اعلیٰ کیرکٹر اور حقیقی قوت قدسی اور تعلق باللہ۔اور شفقت علی خلق اللہ کو بہترین پیرا یہ میں بیان کرنے والے ہیں۔یا در ہے کہ مندرجہ ذیل نعت صرف ایک حصہ ہے۔آپ کے ان تمام محامد کا جن سے کلام الہلی بھرا پڑا ہے۔مگر یہ چند آیات مخصوص طور پر مشہود اور مشہور ہیں۔اس لئے قبر کا وتیمنا ان کو لکھ دینے اور ان کا ترجمہ کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔تاکہ میں بھی امسال اس پرچھ کے ذریعہ سعادت اور ثواب میں شریک ہوں۔درنہ سے اد چه میدار و بمدرج کسی نیاز مدرج او خود نفر سر مدحت گرے است او در روضه قدس و جلال واز خیال مادمان بالا تر سے (1) لقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُ مِنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمُ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَّحِيمُ (توبه : ۱۲۸) یعنی اسے ہر طبقہ کے انسانو! یہ عظیم الشان رسول تم میں سے ہی تمہارے پاس بحوث ہو کہ آیا ہے۔ایک طرف تو اس کی خیر خواہی کا یہ عالم ہے۔کہ تمہیں تکلیف دینے والی باتیں اسے بہت شاق گزرتی ہیں۔دوسری طرف تمہارے فوائد کا نہایت ہی درجہ خواہشمند ہے۔اور تیسری طرف مومنوں کے لئے حد درجہ کی شفقت اور رحم اپنے دل میں رکھتا ہے۔(۲) الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِى الاقى الَّذِي يَجِدُونَهُ مكتوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلُ يَأْمُرُهُم بِالمترو