مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 406
۴۰۵ مقطعات کی پرانی تفسیروں کا ہی ایک بیان ہے ورنہ حضور مقطعات کو اپنی زندگی کے آخر یک منکشف شده نہیں مانتے رہے۔اور یہی حتی ہے۔تیسری زیر دست الہامی دلیل جو مجھے ملی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود در آپ پر سلامتی ہو) کی ایک وجی مبارک ہے۔حمه تِلْكَ آيَاتُ الكِتَابِ الْمُبين۔یہ الہام قرآن کی آیت نہیں ہے۔بلکہ غیر قرآنی وحی ہے جو حضور کو ہوئی۔اور اس میں منقطعہ حمد کے معنی بتائے گئے ہیں۔یعنی محمد کیا ہے۔یہ کتاب مبین کی آیات ہیں (نہ کہ کچھ اور) اور یہی میرا دعوی ہے۔کہ تمام مقطعات فاتحہ کی آیات ہیں۔نہ کہ کچھ اور۔اور میں نے بھی خستہ سے فاتحہ کی آیات نمبر ۴۰۲۰۲ مراد لی ہیں اور الہام بھی اسی کے مطابق ہے۔چوتھی دلیل یہ ہے کہ خود قرآن مجید کی سورہ دخان میں رقوم کا لفظ ایک پوری آیت دق إنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الكَرِيمُ (الدخان: ۵۰) کا مخفف ہے (حضرت مسیح موعود در اسلامی اصول کی فلاسفی ) پس یہ ایک عمدہ نمونہ ہے مقطعات کی تفسیر کے لئے کہ وہ بھی ایک یا کئی آیتوں کے محققات ہیں۔اور خود قرآنی مثال سے بڑھ کر ہمارے لئے اور کون سی حجت ہو سکتی کہ ہے۔اور میں طرح زقوم مقطعہ ہے ایک آیت کا اسی طرح مقطعات بھی قرآن ہی کی آیات کے اختصارات ہیں۔