مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 405
۴۰۴ پس خود مدعی کو بھی کسی جگہ قرار نہیں اور یہی ثبوت ہے۔اس بات کا یہ مقطعات اسمائے الی نہیں ہیں۔اسی طرح نیس کے معنے اسے سردار اور طے کے معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ دوستم پر لگا کر ان کو بھی مجبور ہو کر اسماء الہی سے خارج کر دیا۔اور اپنے دسوئی سے خود ہی دستبردار ہو گئے اور منقطعات کے ایک یونی فارم معنی کہیں بھی نہ کر سکے جیسے کہ ہم نے کئے ہیں۔دوسرا اعتراض یہ ہے کہ حقیقۃ الوحی کے حاشیہ ص ۱۳ پر حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو نے آخر کے معنی آنا الله اعلم کر کے پھر ان معنوں کی منطقیانہ توجیہہ بھی کی ہے۔اس لئے ہم کو دہی معنی مانتے چاہیں جو حضرت مسیح موجود نے فرمائے ہیں۔میرا جواب یہ ہے کہ انا اللہ اعلم تو ابن عباس یا مجاہد کے کئے ہوئے معنے ہیں حضرت مسیح موعود نے ہر گز نہیں کئے۔البتہ آپ نے پرانے معنوں کو صرف تسلیم کر کے ان کی منطقیا نہ توجیہہ کی ہے۔لیکن باوجود اس توجیہہ کے خود حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو اس تحریرہ کے بعد کی ایک تحریر میں جو حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۲۲ پر ہے۔ارقام فرماتے ہیں اگر کہو کہ خدا کے الہام میں اُسی وقت کیوں معنی نہ کھولے گئے۔تو میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ مقطعات قرآنی کے اب تک منے نہیں کھوئے گئے۔کون جانتا ہے کہ طے کیا چیز ہے۔اور ن کیا چیز ہے۔اور کھیعص کیا چیز ہے۔(حقیقۃ الوحی) یہ تحریہ اسی کتاب کی ہے۔جس کی پہلی تحریر پہ آپ نے سند پکڑی تھی۔اور یہ بعد کی تحریر ہے۔کیونکہ وہ صفحہ ۱۳۳ پر تھی اور یہ صفحہ ۲۲۳ پہ ہے۔نہیں معلوم ہوا کہ خود حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو، ان معنوں کو یقینی طور پر صحیح نہیں مانتے بلکہ پانے مشہور معنوں کولے کر ان کی ایک منطقی توجیہہ فرماتے ہیں اور لیں۔یہاں تو حضور نے قطعی فیصلہ کر دیا ہے کہ حضور پر یا کسی اور پر مقطعات کے معنے نہیں کھولے گئے اور صفحہ ۱۳۳ کی تحریر