مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 341 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 341

۳۲۰ اندر بھی ایک حوالات یا قید خانہ ہے جہاں سوتے وقت اس کی روح اپنے حواس و اختیارات سے معطل ہو کر مثل ایک قیدی کے بند کر دی جاتی ہے۔اور خدا تعالیٰ کے کامل تصرف میں ہوتی ہے۔جو بھی خواب یا نظارہ خدا چاہے۔اس کو دکھائے۔اس کا اپنا ارادہ قطعا کوئی نہیں ہوتا۔لیکن جب جاگنے کا وقت آتا ہے۔تو حوالات کے فرشتے فوراً دروازہ کھول کر اسے آزاد کر دیتے ہیں اور دو ہیم پر قبضہ کر کے اپنے اختیارات مرضی اور ارادہ استعمال کرنے لگتی ہے۔اور یہی عمل روزانہ ہوتا رہتا ہے حتی کہ اس کے مرنے کا دن آجاتا ہے۔اس وقت موت والے فرشتے اسے چھوٹے میل کی بجائے مستقل اور بڑے جیل خانہ میں لے جاتے ہیں۔جہاں وہ ایک معطل حالت میں تا یوم الحساب پڑی رہے گی۔اس تشریح سے اس آیت کی جو مشکلات ہیں وہ حل ہو جاتی ہیں۔اور اس فرق کی تو جیہ بھی ہو جاتی ہے۔کہ مردہ اور سونے والے کے جسموں میں کیوں ایک نمایاں فرق ہوتا ہے۔حالا نکہ روح کے اختیارات اور ارادی قوت کے لحاظ سے دونوں حالیتی براہ ہیں۔یہ سب غلطی تدا کو محدود سمجھنے اور ایک غلط عقیدہ رکھنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔خدا ہر جگہ ہے۔اس کے کارکن ہر جگہ ہیں۔اس کے قید خانے ہر جگہ ہیں۔اور روح کو واپس بھیجنے کے معنے صرف اس کا آزاد کرتا ہے۔اور توشی یعنی قبض روح کے معنے اس کے سارے اختیارات سلب کر کے پورے طور پر خدائی تسلط کے ماتحت آجانے کے ہیں۔میں اتنا فرق ہے کہ مرنے کی صورت میں تو روح کا تعلق جسم سے ہمیشہ کے لئے کٹ جاتا ہے۔لیکن نیند کی صورت میں یہ انقطاع نہ صرف عارضی ہوتا ہے۔بلکہ کم درجہ کا بھی ہوتا ہے۔(روز نامہ الفضل قادیان ۲۱ ستمبر ۶۱۹۴۰