مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 316
۳۱۵ ایک آتش فشاں پہاڑ تھا۔پھوٹ پڑا اور اس بستی پر آگ اور پتھروں کا مینہ جب کہ ایسی آتش فشانی یا VOLCANIC ERUPTIONS کے وقت ہوا کرتا ہے۔ہر سا ساتھ ہی زمین بھی شق ہو گئی۔اور رفتہ رفتہ ایک جھیل وہاں بن گئی جسے آج کل جھیل مردار کہتے ہیں۔یہ کملی واقعہ ہے۔اب بتاؤ کہ سوائے مصلی بات کے اس میں کوئی میری بات بھی ہے جو لوط علیہ السلام کی طرف منسوب کی جاسکے۔ان چند باتوں کا واضح کرنا ضروری ہے۔اول یہ کہ قرآن کی عبارت سے کہیں نہیں معلوم ہوتا کہ فرشتے لڑکوں کی شکل میں متشکل ہو کر آئے تھے وہاں تو مہمان لکھا ہے۔کہیں لڑکے ہونے کا اشارہ تک نہیں بلکہ تو رات میں بھی نہیں۔اس لئے یہ کہنا کہ لڑکوں کو دیکھ کر وہ لوگ جمع ہو کر آگئے تھے۔غلط ہے۔عذاب کے فرشتے تو سخت ہیبت ناک اور غضب والی ڈراؤنی شکلوں والے ہوں گے۔جیسا کہ غلاظ شداد ہوتے ہیں۔خونخوار آنکھوں اور بڑی بڑی داڑھیوں والے نہ کہ امرد۔پھر لواطت کا کیا موقع تھا۔ان کو لڑکا سمجھنا ساری غلطیوں کی جڑ ہے۔دوسرے یہ کہ خود قرآن کہتا ہے۔کہ وہ اس وقت یہ فعلی کے ارادہ سے نہیں آئے تھے۔بیشک یہ ہر جگہ لکھا ہے کہ اس قوم میں یہ بڑی عادت رائج تھی۔مگر کیا یہ عادت آج کل ہندوستان کے بعض شہروں کے لوگوں میں خاص طورپر رائج نہیں ہے ؟ مگر پھر بھی ایسے لوگ تھے باندھ کہا اس کام کے لئے ڈھنڈورہ پیتے ہوئے لوگوں کے دروازوں پر جمع نہیں ہو جایا کرتے در در نامه الفضل ۲۷ مئی ۱۹۳۸ و