مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 314
٣١٣ ایسا نہ کیا کہ سے در نہ ہم اسے نکال دیں گے۔غرض یہ جھگڑے چلتے رہے۔یہاں تک کہ جب اتمام محبت ہو چکی اور موعود عذاب کا وقت آگیا۔اور کسی کے ایمان لانے کی امید نہ رہی۔تو عذاب کے فرشتے متمثل ہو کر شام کے وقت بطور مہمانوں کے حضرت لوط کے ہاں آئے بستی کے لوگوں کو بھی رات کو پتہ لگ گیا کہ لوڈ کے ہاں آج پھر کچھ مہمان باہر سے آئے ہیں۔دن کے وقت تو تو داردوں کے آنے سے وہ ناراض ہوتے ہی تھے۔یہ رات کو آنا اور پھر شب بھر گاؤں میں ٹھہرنا ہیں غضب ہی ہو گیا۔سارے چڑھ دوڑے۔اور گھر کے آگے جمع ہو گئے۔غل مچنے پر حضرت لوط علیہ اسلام باہر تشریف لائے۔دیکھا۔تو فرمایا بھائیو ! خدا سے ڈرو۔یہ کیا مظاہرہ اور کیسا بلوہ ہے جہانوں کے سامنے تو خدا کے لئے مجھے ذلیل نہ کرو۔انہوں نے جواب دیا۔کیا ہم تمہیں سرور منع نہیں کرتے تھے کہ غیر علاقہ کے لوگوں کو یہاں نہ بلایا کرو۔اب سیدھی طرح یا ان کو ابھی کھڑے کھڑے نکال دو۔اور خود بھی نکل جاؤ ورنہ ہم دوسری طرح تمہاری خبر لیں گے۔کیا تمہاری صلاح ہے کہ یہاں کوئی چوری یا ڈاکہ زنی کی واردات ہو جائے۔تعرض حب بہت نل چپاڑہ ہوا۔اور جہانوں کے سامنے بے عزتی کا خوف بھی۔توان روز روز کے لڑائی جھگڑوں اور فسادوں سے بچنے کی ایک ترکیب حضرت لوط علیہ السلام کو سوجھی۔وہ یہ کہ میں تو غریب الوطن آدمی ہوں۔میرا ان پر کوئی اثر نہیں۔ایک شرط پر ان سے صلح کر لیتا ہوں۔تاکہ امن ہو جائے۔وہ یہ کہ میں اپنی دونوں ناکتخدا لڑکیوں کی شادی اس غیر قوم کے لڑکوں سے کر دوں۔تاکہ حق قرابت قائم ہو جائے۔اور ان کو مجھ پر لسبب ان رشتوں کے اعتماد پیدا ہو جائے اور اجنبیت جاتی رہے۔کیونکہ ایسے رشتے قومی جھگڑوں اور برادری کے فسادوں کے دُور کرنے میں بہت کارگر ہوتے ہیں۔ایسا ہی مغلوں اور راجپوتوں نے بھی کیا۔اور ساتھ ہی غیریت بھی کم ہو جانے کی وجہ سے یہ لوگ غالباً میری نصیحتوں کو بھی سن لیا کریں گے اور ان پر عمل کریں گے۔بفرض حضرت لوط نے اپنی طرف سے اس مسلسل فساد کے دُور کرنے کی یہ