مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 313
قَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ ضَيفى فَلَا تَفْصَحُونِ O واتَّقُوا الله وَلَا تُخْنُونِ قَالُوا أَوَلَمْ نَتْهَكَ عَنِ الْعَلَمِينَO قَالَ هؤلاء بنتى إن كُنتُمْ فَعِلِينَ (الحجر، ٤٢٧٩) ترجمہ : (حین پرہ) اس نے (ان سے) کہا کہ) یہ لوگ میرے جہان ہیں۔تم (انھیں ڈا کہ مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ کا تقولی اختیار کردہ اور مجھے ذلیل ز کرد اُنھوں نے کہا کیا ہم نے تمھیں ہر ایرے غیرے کو اپنے پاس شہرانے سے روکا تھا اُس نے کہا کہ) اگر تم نے (میرے خلاف) کچھ کرنا رہی ہو تو یہ میری بیٹیاں (تم میں موجود ہی) میں (جو کافی ضمانت ہیں) حضرت لورا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے اور ان کے ساتھ ہی ترک وطن کر کے فلسطین میں آئے تھے۔یہاں کچھ بستیاں اس مقام پر تھیں۔جہاں آج کل بحر مردار یا DEAD SEA واقعہ ہے۔ان میں سے سروم ایک بستی تھی جن کے لوگ خاص قسم کی بدکاری میں مبتلا تھے۔یعنی ان کے ہاں لواطت کا بہت زور تھا۔وہاں حضرت لوط آباد ہو گئے۔جب کچھ مدت وہاں رہتے گذری تو اللہ تعالی نے اُن کو رسول مقرر کر کے تبلیغ اس قوم کی اُن کے سپرد کر دی۔انہوں نے جب انہیں ان بد افعال سے منع کیا تو ساری قوم دشمن ہوگئی۔اول تو یہ وجہ کہ وہ غیر ملک اور غیر قوم کے آدمی تھے۔دوسرے یہ کہ ان کا جتھا نہ تھا۔کیونکہ کوئی ان پر ایمان نہیں لایا تھا۔تیسرے یہ کہ وہ ہر وقت ان کو نا جائزا فعال سے منع کرتے رہتے تھے۔غرض تبلیغ کیا شروع ہوئی روز جھگڑا رہنے لگا۔پاس اور بھی گاؤں تھے۔حضرت لوط وہاں کے لوگوں کو بھی تبلیغ کیا کرتے تھے اور وہ لوگ بھی ان کے پاس آتے جاتے تھے۔ان باہر کے لوگوں کی آمدو رفت سدوم میں وہاں کے باشندں کو پسند نہ تھی۔بلکہ نہیں ان کی سب سے بڑی وجہ شکایت لوط علیہ السلام کے خلاف رہا کرتی تھی۔کہ باہر کے لوگوں کو یہ شخص ہماری بستی میں لاتا ہے۔اور یہ ہم کو سخت ناگوار ہے۔