مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 311
٣١٠ والا پردہ ہو تو عورت کی جان کا خطرہ ہے۔وہاں جلیا بی پردہ نہیں چل سکتا۔جواب : بیٹک ایسے موقعہ پر چادر یا برقعہ نہیں چل سکتا مگر وہ لوگ اگر چاہیں تو اپنے ہی لیاس میں جلس بی پر وہ بنا سکتے ہیں۔یعنی لمبا کوٹ ، ہیٹ اور اس کے گرد با یک نقاب۔اب بھی کئی معزز یاور و پین عورتیں ایسا لباس پہنتی ہیں۔ذراسی ترمیم کی ضرورت ہے۔یہ کون کہتا ہے کہ جب یوردی بین عورت مسلمان ہو جائے اور پردہ کرنا چاہے تو وہ ہندوستان کا ہی برقعہ یا چادر پہنے۔وہ اپنے ملک کے لباس میں خفیف سی ترمیم کے بعد وہی حالت جلباب والی پیدا کر سکتی ہے۔اسی طرح ٹوپی کی جگہ شال سے سر اور چہرہ کا ایک حقیقہ چھا سکتی ہے بلکہ چھتری سے بھی مدد لے سکتی ہے۔رومن کیتھولک منوں کو دیکھو۔کیا یہ لندن میں نہیں پھر سکتیں ؟ اگر یہ پھر سکتی ہیں تو ایک مسلمان عورت بھی پھر سکتی ہے۔ننوں کا لباس اور نقاب مل کر پورا جلبابی پردہ بن جاتا ہے۔اگر نقاب اٹھانا ہو تو چہرہ کا نچلا حصہ صرف ایک رومال سے چھپ سکتا ہے جو بائیں ہاتھ سے منہ پر رکھ لیا جائے۔عرض عمل کرنا ہو تو ہر طریق سے ہو سکتا ہے۔اورٹان ہو تو خوئے بدرا بہانہ بسیار والسلام ریویو آف ریل جنر اگست ستمبر ۶۱۹۲۸