مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 271
میرا بنده المفضل مورخہ 4 جنوری ۱۹۲ء میں خاکسار نے ایک مضمون بعنوان، میرا خدا ہ لکھا تھا جس میں بتایا تھا کہ اسلام نے جو خدا پیش کیا ہے۔وہ کیسا ہے۔موجودہ مضمون گویا پہلے مضمون کا جواب ہے۔بعینی اسلام نے اس خدا کے مقابل پر جو بندہ پیش کیا ہے وہ کیسا ہونا چاہیے ) میرا بندہ تو وہی کہلا سکتا ہے جو میرا پسندیدہ ہو۔وہ مجھے چاہے اور میں اُسے چاہوں مجھے تو وہی بندہ پسند ہے۔جو صاحب قلب سلیم ہو۔میرا مومن ہو۔میرا فرمانبردار ہو۔میر القولے خشیت اور عشق اپنے دل میں رکھتا ہو۔آخرت پر اور سب رسولوں پر یقین رکھنے والا ہو مخلص۔نڈر عقلمند - صاحب علم نیک کردار - انصاف پسنده راستباز - دور اندیش - صابریت کرہ فرمانبردار متواضع - دنیا سے بے رنت۔متوکل - موحد وسیع الطرف صادق الوعد - میری رضا کا طالب۔میرے دین کا خدمت گزار - پاک ظاہر - صاف باطن امن پسند درد خلائق۔رحیم کریم۔میرے محبوبوں پر درود بھیجنے والا۔نمازوں کا محافظ لغو سے اعراض کرنیوالا اپنے فوج کی حفاظت کرنیوالا میرے ذکر میں شامل تواب جہنم سے خالف جنت کا شائق چھوٹوں پر شفقت کرنے والا۔بیٹوں کا ادب کرنے والا۔صاحب تمیز و تہذیب سیخی معمور الاوقات مجاہد راستبازہ سادہ مزاج - عاہد حامد امین۔اٹھتے بیٹھتے میرا دھیان رکھنے والا۔عالم بالمل۔حسن معاشرت پر عامل - خداداد - رزق میں سے مخلوق پر خرچ کرنے والا۔میانہ رو پچھلی رات کو عبادت کرنے والا۔بہت دُعا مانگنے والا۔مجاہد۔روزے رکھنے والا۔میری رخصتوں اور سہولتوں پر دل کی خوشی سے عمل کرنے والا خوف دغم سے آزاد۔بداخلاقیوں سے میرا بے تکلفت سہنس مکھ