مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 244 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 244

۲۴۰۳ (۲۴) اس کے بعد ہم ایک اور طرف متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ خدا وند عالم رب العالمین کی طرف سے ایک منادی کنندہ یہ اعلان کر رہا تھا کہ ايْنَ الَّذِي كَانَتْ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَصَاحِحِ (السجده : ١٤) رکہاں ہیں وہ لوگ جن کے پہلو میری خاطر رات کے وقت بستروں سے الگ رہتے تھے یہ سنتے ہی ایسے سب لوگ کھڑے ہو کہ ایک جگہ جمع ہو گئے اور ان کو حکم ہوا کہ جاؤ تمہیں بغیر حساب بخش دیا۔۲۵ اس کے بعد ایک تیسرا مقدمہ عدالت خاص میں پیش ہوا۔ایک شخص کو آگے لایا گیا اور حکم ہوا کہ اس کے صغیرہ گناہ اور چھوٹی چھوٹی خطائیں اسے پڑھ کر سناؤ، پھر پوچھو کہ کہ تو نے یہ گناہ کئے تھے۔مگر کبائر اس کے سامنے نہ پیش کرنا۔۔صفائر کو سن کر وہ شخص کہنے لگا " ہاں مول ! یہ سب میری غلطیاں مجھ سے ہی سرزد ہوئی ہیں۔میں کیونکر سچی باتوں کا انکار کر سکتا ہوں۔۔اور ساتھ ہی وہ شخص دل میں ڈر رہا تھا کہ اب اس کے بعد میرے کبائر بھی ظاہر کئے جائیں گے کہ اتنے میں حکم ہوا" یا تجھے ہم نے بخشا ، اور تیرے ہر گناہ کے بدلے ایک نیکی تجھے دی۔" یہ دیکھ کر وہ بے چارا خوشی کے مارے بالکل دیوانوں کی طرح ہو گیا اور کہنے لگا یا الہی یہ تو میرے چھوٹے چھوٹے گناہ تھے۔ابھی بڑے بڑے گناہوں اور کیا ئر کو تو پڑھا ہی نہیں گیا۔ان کو بھی پیش کیا جاوے۔؟ یہ سننا تھا کہ حاضرین بے اختیار ہنس پڑے اور وہ شخص بھی شرمندہ سا ہو کر جنت کی طرف روانہ ہوا اور پیچھے سے ایک فرشتہ نے مغفرت کی چادر اسے اوڑھادی۔'