مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 243 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 243

۲۴۲ ارشاد ہوا۔تجھے معلوم ہے کہ تو نے ایسے ایسے بھاری گناہ دنیا میں کئے تھے۔اس نے عرض کیا۔" ہاں اے میرے رب کئے تھے۔" اس کی بوٹی بوٹی خوف کے مارے تھر تھر کانپ رہی تھی کہ لیں اب جہنم کے سوا میں لئے کوئی جگہ نہیں کہ اتنے میں ارشاد ہوا۔دیکھے ہیں نے تیرے ان سب گناہوں کی دنیا میں پردہ پوشی کی تھی۔اب اسی طرح میں یہاں بھی ان کی پردہ پوشی کروں گا۔جا اپنی نیکیوں کا اعمال نامہ لے جا۔اور اپنے گناہوں کا ریٹر ہیں ہمارے پاس چھوڑ جا۔آگے ہم جانیں ہمارا کام (۲۳) اس کے بعد ایک اور مقدمہ عدالت میں پیش ہوا۔ایک مجرم لایا گیا۔اور اس کے ساتھ ننانوے بڑے بڑے طومار رجسٹروں اور اعمال ناموں کے تھے۔مجھے ارشاد ہوا۔" دیکھو یہ تیرے اعمال نامے ہیں۔اگر تجھے ان سے انکار ہے تو کہہ دے۔“ اس نے عرض کیا میرے مولا! جو کچھ ان میں لکھا ہے وہ سب پتا ہے۔ارشاد ہوا۔کوئی عذر ہے۔" کہنے لگا کوئی نہیں۔" حکم ہوا کہ ہمارے ہاں تو تیرا ایک عضد اور ایک بڑی نیکی موجود ہے تجھ پر کوئی علم نہیں ہوگا۔اس کے بعد ایک میٹھی پیش کی گئی جس پر لکھا تھا۔اَشْهَدُ أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدٌ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ حکم ہوا کہ اس چھٹی کو اس کی نیکیوں کے پلڑے میں رکھو۔رکھتے ہی وہ پلڑا اتنا جھک گیا کہ وہ سب طومار گناہوں کے اس کے مقابلہ ہیں بالکل ہلکے ہو گئے۔اور وہ شخص الحمد للہ الحمد للہ کہتا ہوا بہشت بریں کی طرف بھاگتا چلا گیا۔