مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 241
۲۴۰ (19) اسی طرح ایک مومن مجاہد حسین کے اعمال کم تھے، اس کے نیکی کے پلڑے میں اس کا گھوڑا ، گھوڑے کا چارہ اور اس کے گھوڑے کی لید اور پیشاب وغیرہ تک ڈالے گئے ، یہاں تک کہ وہ پلڑا اس کی غفلتوں اور گناہوں کے پلڑے سے مھاری ہو گیا اور وہ اپنے اسی گھوڑے پر سوار ہو کر جنت کی طرف سرپٹ روانہ ہو گیا۔اسی طرح لاتعداد انسانوں کی مغفرت اس طرح پر ہوئی کہ ان کو ابتیاء اولیاء نیکوں اور اہل اللہ سے صرف دوستی اور محبت تھی اور المَرمُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ کے دورہ کے مطابق وہ سب باوجود کسی اعمال کے ان بزرگوں کے ہمسائے قرار پائے۔(۲۰) ایک جگہ دیکھا کہ خدا کا ذکر وتسبیح کرنے والوں کی ایک جماعت فرشتوں کے پروں کے سایہ میں جنت کی طرف جارہی تھی۔ان کے پیچھے بجے ایک آدمی تھا جس کی طرف غفران نے اشارہ کر کے کہا کہ اس کا قصہ بھی عجیب ہے۔ایک دفعہ باری تعالیٰ نے اپنے فرشتوں سے پوچھا کہ آج تم نے دنیا میں کیا دیکھا ؟ انہوں نے عرض کیا۔الہی تیرے کچھ بندے ایک سجد میں تیرا ذکر لعبد ذوق وشوق کر رہے تھے۔، فرمایا گواہ رہو کہ میں نے ان کو بخش دیا۔فرشتوں نے عرض کیا کہ الہی ! اسی مجلس میں ایک شخص اور بھی موجود تھا مگر وہ ذکر اہلی کے لئے نہیں آیا تھا بلکہ اپنے نج کے کسی کام کو آیا تھا۔ارشاد ہوا کہ گواہ رہو۔میں نے اسے بھی بخش دیا۔هُمُ الَّذِينَ لَا يَشْقَى جَلِسُهُمْ رایسے لوگوں کے پاس بیٹھنے والا بھی نامراد نہیں ہوا کرتا )