مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 204
سُبْحَانَ اللهِ بِحَمْدِهِ سُبحانَ اللهِ الْعَظيم - يا سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ یکا للهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ والله اكبر يا ان فقرات کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ذکر کرنا۔یہ ذکر زیان سے بار بار کئے جاتے ہیں اور صرف انہیں رہتے جانا مگر مطلب نہ سمجھنا ان کے فائدہ کو بہت کم کر دیتا ہے۔اصل فائدہ ان فقرات کا جب ہوتا ہے کہ انسان علاوہ زبانی ذکر کے غور و فکر کر کے ان کا حقیقی مطلب بھی مجھے تیح ملا تسبیح کو ہی لے لو یعنی سبحان اللہ پڑھا۔اس مقبل فقرہ کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سر جب ہر کمزوری اور سر نقص سے پاک ہے لیکن اگر عقلی طور پر تسبیح پڑھنے والا ان تقائمی اور عیوب کو خودی نہ سمجھتا ہو، جن سے خدا تعالیٰ کی ذات منزہ ہے۔تو یہ میں لکھی ہے کر منہ سے تو وہ اللہ تعالی کو پاک کہتا ہو۔مگر اعتقاداً وہ خدا تعالٰی کی صفات میں عیب اور نقص کا قائل ہو۔مثلاً ایک سبحان اللہ کہنے والی شخص مکن ہے کہ تقسیم اور محلول کا قائل ہو یا خدا کے برابر کسی اور مخلوق کا درجہ سمجھتا ہو۔یا دعا کا قائل نہ ہو۔یا اپنے کسی عزیز کے مرنے پر خدا کو ظالم کہتا ہو۔یا خدا تعالیٰ کو محدد و العلم یا محدود القدرت سمجھتا ہو۔پس آپ ہی غور کر لیں۔کہ ایسے آدمی کا سبحان اللہ کہنا فضول گوئی ہو گا یا نہیں ؟ اس لئے ضروری ہے کہ ہر شخص جو تسبیح پڑھتا ہو۔اس کے لئے حسب ذیل اعتقادات کا سمجھنا اور خدا تعالے کے تقدس پر ایمان لانا یعی ضروری ہے۔ورنہ سُبحان اللہ پڑھنا ایک امر ہے فائدہ ہوگا۔اور وہ اعتقادات یہ ہیں۔- خدا تعالے کبھی ظلم نہیں کرتا۔-۲ خدا تعالی مددگار کفو اور شریک کا محتاج نہیں۔۔خدا تعالیٰ کا علم ناقص نہیں۔بلکہ وہ ہر زمانہ کا تفصیلی علم اشیاء کے متعلق رکھتا ہے۔خدا تعالیٰ جسم سے پاک ہے۔