مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 181
١٨٠ حمد ذات باری تعالی میرا محبوب ہے وہ جان جہانِ معشاق اُس سے جو دُور رہا قالب بیچاں ہے ہی عالم کون ومکاں نور سے اُس کے روشن تعمیر ساز وہی بُوئے گلستاں ہے وہی فقتے وقتے ہیں شش عشق کی میں نے رکھی مالک نیم وہی روح کا سلطان ہے وہی نگے اس کے ہے نیز نگئی عالم کا ظہور گرمی و رونق بازار حسیناں ہے وہی دل جو انساں کو دیا۔درد محبت دل کو قبلہ دل ہے وہی۔درد کا درماں ہے دری جس نے آواز سُنی ہو گیا اس کا شیدا دیکھ لے جلوہ تو سو جان سے قربان ہے وہی و تو جو کچھ ہے و ہے نام بھی اسکے پیاسے تھی تو قوم ومحمد ہادی و رحمان ہے وہی عشق میں جسکے ثابت نہیں وہ یاد ہے یہ جس پہ بن دیکھے میں لوگ یہ جاناں ہے وہی کہ خوشیاں ہوں گر خاک میں بے مول نگار قُرب مال ہے جسے خرم و شاداں ہے وہی حبت دنیا بھی نہ ہو خواہش عقبی بھی نہ ہو جرمن کچھ بھی نہ ہو طالب جاناں ہے دہی اہشمار ولی ص ۳۳۲)