مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 161
14 خلائق کے دل تھے یقیں سے تہی بتوں نے تھی حق کی جگہ گھیر لی کہ توحید ڈھومے سے ملتی نہ تھی ہوا آپ کے دم سے اس کا قیام علیک الصلوۃ علیک السلام آپ کی نظمیں پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا موزوں الفاظ آپ کے سامنے قطار اندر قطار کھڑے ہیں اور آپ بلا تکلف ان کو اٹھا اٹھا کر نہایت قرینے سے رکھتے چلے جاتے ہیں۔مشکل مذہبی اصطلاحات کو عام فہم الفاظ میں پیش کرنے میں آپ کو ید طولی حاصل تھا۔جان پہچان تم سے ہو جائے معرفت سے بھلا ہمیں کیا کام بات مسلنے کو میں ترستا ہوں مجھ کو الہام چاہیے نہ کلام تم پہ مرتے ہیں اسے مرے پیارے عشق کا دے رہے ہو کیا الزام یونہی چھپ چھپ کے ملتے رہنا تم وصل کا تو خیال ہی ہے خام زاہدو! کیا کریں دعاؤں کو مانگنا بھیک ہے ہمارا کام مجھ سے تقولی کا کرتے ہو کیا ذکر ڈرتا رہتا ہوں جب میں تم سے مدام اس طرح اس تنظیم میں متعدد دیگر اصطلاحوں کو عام فہم الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔یہ اشعار تغیل کی جان نہیں تو اور کیا ہیں۔تم آئے اور گلے ملنے سے کترائے تو کیا آئے ہم آئیں اور تمہارا دل نہ گر جائے تو کیا آئے مزہ آنے کا ہے تب ہی کہ ہنستے بولتے آؤ اگر چہرے پہ اپنے بے رخی لائے تو کیا لائے