مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 158
185 ذکر الہی اور اصلاح نفس رکھ زباں کو ذکر سے مولا کے تر تا زباں سے روح تک پہنچے اثر دل بھی سیدھا کر کہیں ایسا نہ ہو به زبان بسیح و در دل گاؤ خر دلاتا ہے صدقہ بلا سے نجات دعائیں پلاتی ہیں آب حیات ہی دو ہیں پس مغز احکام دین اقیمو الصلوة واتو الزكوة مندرجہ بالا سطر میں ہم نے حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کے کلام کا ایک منفر سا تعارف پیش کیا ہے۔اردو ادب اور خاص کر منظومات میں منتظر کشی بھی ایک صنف ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ میرا نہیں اور مرزا دبیر نے اس فن میں اپنے کمالات کا ماہرانہ اور استادانہ مظاہرہ کر کے اردو شاعری کے دامن کو گل ہائے رنگا رنگ سے بھر دیا ہے حضرت میر صاحب نے بھی ایسی تنظمیں رقم فرمائی جن سے منظر کشی کا حق ادا ہو جاتا ہے۔ایسی نظوں میں آپ کی نظم، کچھ بارہ بہت مقبول ہے اور منظرکشی کا ایک اچھا نمونہ ہے انہوں نے سوار سے شعر کہنے شرع کئے اور آخر وقت تک کچھ نہ کچھ لکھتے رہے۔چوالیس برس کے اس عرصہ میں آپ نے بہت تھوڑی نظمیں کہیں گر جو کچھ کہا بالعموم دین کی تائید، احمدیت کی حمایت، اخلاقی قدروں کی اشاعت اور پند و نصائح کی ترویج کے لئے کہا۔ان کی نظمیں خدا اور رسول اور حضرت بانی