مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 127
۱۲۶ کے رات آرام سے گزارو صحیح کوئی علاج کریں گے۔ایک دفعہ میرے ماتھے پر ایک گومرسا اٹھا اور موٹا سا گولین گیا۔درد تو کوئی نہیں تھا۔مگر بڑا بعدا اور یہ نما معلوم ہوتا تھا۔میں نے حضرت میر صاحب سے ذکر کیا گر آپ ہسپتال نہیں جاتے تھے اور نہ آپ پریکٹس کرتے تھے۔مگر محض میری خاطر از راہ شفقت فرمایا کہ کل صبح میرے پاس آنا میں خود ہسپتال میں جا کہ آپریشن کہ دوں گا اور اس طرح کروں گا کہ ذرا بھی تکلیف نہیں ہوگی۔چنانچہ میں گیا۔تو پہلے آپ نے کوئی دوائی لگائی۔جس سے گوشت بے حس ہو گیا اور بعد میں چہرا دے دیا جس سے مجھے ذرا بھی تکلیف نہ ہوئی۔غرض اس طرح کے کئی احسانات ہیں جو انہوں نے مجھے پر کئے۔اور جس کی وجہ سے میں اُن کا نزول سے ممنون ہوں اور ہمیشہ اُن کے لئے دعا گو ہوں۔بلکہ یہ سمجھتا ہوں کہ صرف میں ہی نہیں بلکہ اور بھی ہزار ہا لوگ ہیں جن کے ساتھ حضرت میر صاحب کا خاص مشفقانہ سلوک رہا ہے۔اور جو حضرت میر صاحب کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔جہاں تک مجھے معلوم ہے حضرت میر صاحب ظاہر طور پر عربی کے ڈگری یافتہ عالم نہیں تھے۔مگر ذاتی علم و فضل میں دو کمال رکھتے تھے کہ ہر مسئلہ پر حادی تھے۔اور قرآن پاک کے مشکل سے مشکل مقامات باسانی عام فہم طرز میں فرما دیتے تھے کئی دفعہ آپ کے فضل میں شائع شدہ مضامین اور طبع شدہ تصانیف اس حقیقت کا بین ثبوت ہیں۔نثر کے علاوہ نظم کہنے میں بھی کمال رکھتے تھے۔آپ کے اشعار نہ صرف بلند پایہ مضامین پر مشتمل ہوتے بلکہ زبان بھی نہایت پاک صاف ستھری سلیس اور با محاورہ ہوتی تھی۔اور ان سب کہنہ مشق شاعروں کی سی روانی ہوتی۔بعض نظمیں جو آپ نے خدا تعالیٰ کی حمد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدح میں لکھیں۔ایسی مقبول عام ہوئیں۔کہ آج تک اکثر خوشی کے موقعوں پر پڑھی جاتی ہیں۔