مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 125
۱۲۴ والدہ صاحبہ مرحومہ کی نظر بوجہ موتیا بند کے بند ہو گئی تھی میں نے حضرت میر صاحب سے ذکر کیا۔تو انہوں نے فوراً انہیں دیکھنے کے لئے بلوالیا حضرت میر صاحب نے ازراہ شفقت خود بڑی احتیاط سے ڈاکٹر سمتھ صاحب سے آپریشن کرا دیا اور پھر والدہ مرحومہ کو ہسپتال میں نہیں رہنے دیا۔بلکہ اپنے گھر لے آئے جو ہسپتال کے احاطہ میں سہی تھا۔اور جب تک ان کی حالت تسلی بخش طور پر درست نہ ہوگئی۔پندرہ بیس دن تک ہم سب کو گھر میں رکھا۔اور دونوں میاں بیوی یعنی خود حضرت میر صاحب اور ان کی پہلی اہلیہ محترمہ بڑی محبت سے ان کی خاطر داری کرتے رہے۔نہ صرف ہم سب کو کھانا کھلایا جاتا بلکہ والدہ محترمہ کی بیماری کی وجہ سے اگر کسی خاص پر ہیزی کھانے کی ضرورت ہوتی۔تو ان کے لئے الگ کھانا پکایا جاتا تھا۔یہ وہ شفقت اور احسان ہے جس کو ہم یعنی میں اور میری بیوی کبھی نہیں بھول کتے۔اور ہم ڈھا کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بہتر سے بہتر انہیں احسان کا بدلہ دے اور اب جبکہ وہ اس جہانِ فانی سے رحلت فرما گئے ہیں۔پر ور دگار عالم اپنے فضل وکرم سے قرب کے اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین۔ہم صرف حضرت میر صاحب کے احسان کے ہی ممنون نہیں ہیں۔بلکہ ان کی اہلیہ صاحبہ کے بھی از حد شکر گزار ہیں کہ انہوں نے بھی بیاری کی حالت میں میری والدہ صاحبہ کی بڑی خدمت کی، اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی انہیں دین و دنیا میں خوشحال رکھے۔آمین۔ایک بڑی خوبی حضرت میر صاحب میں یہ تھی کہ خدا تعالیٰ پر کامل بھروسہ اور توکل رکھتے۔چنانچہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ قیام امرتسر میں ایک وقعہ باتوں باتوں میں مجھے معلوم ہوا کہ یہاں مہمانوں کی اس قدر کثرت ہے کہ بعض اوقات آپ کی ساری تنخواہ مہمان نوازی میں ہی صرف ہو جاتی ہے۔مگر آپ بطیب خاطران اخراجات کو برداشت کرتے۔متواضع ہونے کے علاوہ آپ نہایت خوش طبع اور بے لوث انسان تھے۔ہر شخص جوان سے بات کرتا ہی سمجھتا کہ میرے ساتھ ان کا خاص مشفقانہ تعلق ہے اور سر چیند