مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 110
-1+4 ایک دفعہ شدت گرمی کے بعد بارش ہوئی۔میں حضرت میر صاحب سے ملا تو فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ لوگ تو پہاڑوں پر چلے گئے ہیں۔مگر اسمعیل گرمی میں ہیں۔اس لئے اس نے میری خاطر بارش نازل فرمائی ہے۔پھر اسی کیفیت میں اور بہت سی رومانی باتیں ارشاد فرمائیں۔حضرت میر صاحب عشق الہی کا چلتا پھرتا مجسمہ تھے بسلسلہ کی عزت و عظمت کا قیام ان کا مطمح نظر تھا۔وہ ہر وقت دینی مطالعہ میں مستغرق رہتے تھے۔خدا کی قدرتوں پر فکر کرتے رہتے تھے۔انہیں ظاہری اور خشک باتوں سے ٹوپی نہ تھی۔بہت بڑے نکتہ رسی عالم دین تھے۔ان کا وصال ان کے لئے تو مسرت اور خوشی ہے۔مگر جو لوگ اس سے روحانی وجسمانی فوائد سے محروم ہو گئے ہیں۔ان کے لئے رتی اور تکلیف کا موجب ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اپنے عاشق صادق بندہ کے درجات غیر معمولی در پر پڑھائے اور ان کے اہل وعیال پر برکات نازل فرمائے۔آمین ثم آمین۔مکرم جناب خواجہ غلام نبی صاحب اپنی بہترین خو بیوں اور غیر معمولی مومنانہ صفات کی وجہ سے جماعت احمدیہ کے معز زرین رکن تھے۔ایک لمبا عرصہ حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) سے براہ راست تعلیم وتربیت کے مواقع پانے والے خوش قسمت نہ صرف اپنے تقوی وطہارت اور اعلی ترین مومنانہ شان رکھنے کی وجہ سے بلکہ خاندان حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہوا سے رشتہ کے لحاظ سے بھی بزرگ ترین ہونے کے باوجود ہر ایک کے ایسے خادم اور غیر اندیش کہ چھوٹے سے چھوٹے بچے کی علالت کی اطلاع پا کر اپنا دکھ درد بھول کر اس کے علاج میں ہمہ تن ہے مصروف ہو جانے والے معالج۔دنیوی لحاظ سے اونی سے اونی انسان کی نیکی اور عبادت گزاری کا نہ صرف بہترین الفاظ میں اعتراف کرنے والے بلکہ اس پر رشک کا اظہار کرتے