مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 669 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 669

44A ترجمہ : اے ہمارے رب تو نے اس (عالم) کو لیے فائدہ نہیں پیدا کیا۔- ہر انسان شجره انسانی کی ایک شاخ ہے اور ہر بچہ اپنی قوم یا خاندان کے درخت کی ایک شاخ ہے۔بالکل علیحدہ چیز نہیں ہے۔اس وجہ سے بہت سی باتوں میں اچھی یا بری دکھ کی یا سکھ کی وہ اپنے والدین خاندان یا قوم سے ورثہ بھی لیتا ہے۔وہ دنیا میں اکیلا منقطع فرد نہیں ہے بلکہ ایک عظیم الشان سلسلہ کی کڑی ہے۔یہ بھی ایک وجہ دُکھ سکھ کی ہے۔- بچوں کو معصوم کہا جاتا ہے ہمارے نزدیک بچوں سے زیادہ انبیاء علیہم السلام معصوم ہیں۔مگر دکھ اور بیماریوں سے وہ بھی بیچے ہوئے انہیں ہوتے اور الگ ہیں، تو انسانوں لئے ہے شرعی اور طبعی قانون دونوں الگ الگ ہیں۔شرعی تو مکلف انسانوں کے لئے ہے گر طبیعی پر انسان کے لئے یکساں ہے الا ماشاء الله 9 موت کے راستہ میں قدرت نے سخت دُکھ اور تکالیف لکھ دی ہیں تاکہ لوگ ہر قیمت ادا کر کے موت سے کہیں۔وہ نہ لوگ ذرا ذراسی بات پر خود کشیاں کر لیتے یا علاج میں لاپر دائی کرتے۔نظام عالم نہایت در بعد اختلاف چاہتا ہے۔اور اسی اختلاف کی وجہ سے اس باغ و بہار کی ساری رونق ہے۔اس اختلاف میں بد صورتی افلاس اور دکھ درد دیکھ کر چین آدمی حیران رہ جاتے ہیں۔حالانکہ اختلاف کے لئے لازمی ہے کہ ہر قسم کا سکھ اور ہر قسم کا دکھ دُنیا میں موجود ہو۔- یہ دنیا انسان کا اصل گھر نہیں بلکہ صرف چند سالہ عارضی سرائے ہے۔اصل گھر اس کا ایک ابدی جنت ہے۔جہاں کوئی تکلیف نہیں۔جہاں اس کی ہر خواہش ہمیشہ پوری ہوتی رہے گی۔دنیا نہیں بلکہ عالم آخرت ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔اس اصل کے تر سمجھنے اور صرف دنیا کی ساٹھ ستر سالہ زندگی کو ہی اصلی حیات انسانی اور اس جگہ کو دارالجزاء کجھ لینے سے اکثر شکوک وشبہات اس قسم کے پیدا ہوتے ہیں۔دنیا تو دارالعمل اور دارالامتحان