مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 611
41- نوکر مزدور ہے۔غلام نہیں ہے ایک دوست انبالہ سے اپنے خط میں مجھے تحریر فرماتے ہیں۔السلام علیکم۔گزارش ہے کہ آپ کا ایک مضمون 'الفضل' کی ایک قریبی اشاعت میں شائع ہوا جس میں سادہ زندگی کے متعلق نہایت قیمتی نصائح ارشاد فرمائی ہیں۔مگر میرے نزدیک جہاں بناسپتی گھی کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے یہ تحریر فرمایا ہے کہ بناسپتی گھی مار بمین کے لئے استعمال کریں۔قابل اعتراض ہے۔اور اس کا اکثر غیر احمدی اشخاص نے تمسخر اڑایا ہے چونکه خاکسار خود بھی اس کے خلاف ہے۔اس لئے مخالفین کو کوئی جواب نہیں دے سکتا۔اس لئے ملتمس ہوں کہ اس کی تشریح فرمائیں کہ آیا یہ از روئے شریعیت جائز ہے یا نہیں۔کیا کھانے کے معاملہ میں ملازم اور آقا کے درمیان کوئی امتیاز روا ہے۔4 اس خط کے آنے سے پہلے بھی چند دوستوں نے زبانی طور پر یہی اعتراض کیا۔میرے نزدیک چونکہ یہ اعتراض نا واقعی پر مبنی ہے۔اس لئے اس کا جواب لکھتا ہوں۔واضح ہو کہ اول تو کوئی ایک شخص کسی گھر مں ملازم ہو تو اس کے لئے علیحدہ ہانڈی پکانا۔یا ایسی تجویز بتانا سراسر بے وقوفی ہے۔کیونکہ دس بارہ کھانے والوں کے سالن میں سے ایک آدمی کا سالن بآسانی نکل سکتا ہے۔اور علیحدہ سالن پکانا اسراف میں داخل ہو گا پس یہ بات تو صرف ایسے گھرانوں یا خاندانوں میں چل سکتی ہے جہاں کئی کئی نوکر ہوں۔سر اور ان کی تعداد اتنی ہو کہ الگ ہانڈی پکانے میں خرچ کی کفایت ہو سکے۔اس لئے یہ تجویز صرف ایسے ہی لوگوں کے لئے ہے جن کے پاس کئی ملازم ہوں۔مثلاً ایک باورچی، ایک شیخی۔