مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 603
4-4 عرض اس امر میں مناسب یہ ہے کہ عادتاً پان ازردہ ، حقہ سگریٹ اور چائے وغیرہ کو ترک کر دینا چاہیے۔ہاں چائے یا پان بوقت ضرورت گاہے گاہے بے شک استعمال ہو سکتے ہیں۔لیکن تیا کو افیون - پوست - قوام - زردہ کی گولیاں یا نسوار تو سوائے ضعیف العمر عادی آدمیوں کے کسی احمدی کو چکھنا بھی قابل شرم ہے۔۳۔کھانے کے اوقات میں کمی : بعض گھروں میں ہر وقت ہانڈی چڑھی رہتی ہے اور دستر خوان بچھا رہتا ہے اور سوائے مسلسل اور متواتر کھانے کے ان کے ہاں اور کوئی ذکر ہی کم ہوتا ہے۔اور کے تو معتقد که زیستن از بهر خوردن است کا نظارہ ان کے ہاں ہر وقت دکھائی دیتا ہے یہ بات نہایت ہی معیوب ہے۔سوائے کمزوروں اور بچوں کے میرے نزدیک کسی شخص کو تین دفعہ سے زیادہ کھانا نہیں کھانا چاہیئے۔نخواہ صبح کا ناشتہ ، دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا۔یا صبح کا کھانا۔تیسرے پہر کا ناشتہ اور رات کا کھانا۔بہر حال ہر وقت کھانے کا شغل جیب پر بہت بوجھل ہوتا ہے۔اور جیب سے زیادہ معدہ پر اور صحت پر۔عموما یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو خود یا ان کے بچے چھوڑے ہوتے ہیں یعنی ان کا جی ہر مزیدار چیز کے کھانے کو ٹوٹتا رہتا ہے۔اس طرح ہر موسم پر ہر پھل اور ہر تہ کاری اور ہر قسم کے کھانے اور ہر طرح کے چٹنی اچار مربیوں اور ہر طرح کے مزیدار کھانوں اور ہر طرح کی پینے کی اشیاء کے لئے ان کی طبیعت بے قرار رہتی ہے اور نتیجو ظاہر ہے کہ ہر چیز ان میں سے پیسہ خرچ کر کے حاصل ہوتی ہے۔پس اپنے کھانے کے اوقات مقر اور محدود کرنے چاہئیں۔اور بچوں کے چھورپنے کا سختی سے مقابلہ کرتے رہنا چاہیئے۔یادر ہے کہ صرف وہی بچے چھوڑے نہیں ہوتے۔جو ہر کھانے والی چیز پر کرتے ہیں۔بلکہ وہ بچے بھی چھوڑے ہیں چین کو خاص خاص کھانے کی چیزوں سے نفرت ہو۔یعنی اگر ایک لٹکا میٹھا ، گھیا یا کر دیا توری نہیں کھاتا۔یا دال اور پہلے شوربے سے نفرت کرتا ہے تو دراصل وہ