مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 58
رہا ہے۔مہندی کے مقبرے میں ہم پاس پاس سوئیں دنیا کی کشمکش سے ہم کو مے رہائی یہ خوش نصیب جوڑا حضرت اقدس کے قدموں میں پہلو یہ پہلو ابدی نیند سو بچپن کا ایک واقعہ حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کے بچپن کے حالات محفوظ نہیں مگر ایک ایسا واقعہ گذرا ہے جو حضرت میر صاحب کے بچپن کا ہے اور سیح وقت کی صداقت کا ایک نشان بن گیا ہے۔۲ ستمبر الہ کی تاریخ کے ساتھ تذکرہ میں درج ہے۔ایک دفعہ میری بیوی کے حقیقی بھائی سید محمد اسمعیل کا ارجن کی عمر اس وقت دس برس کی تھی) پٹیالہ سے خط آیا کہ میری والدہ فوت ہوگئی ہے اور اسحاق میرے چھوٹے بھائی کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہے اور پھر خط کے اخیر میں بھی لکھا ہوا تھا۔کہ اسحاق فوت ہوگیا ہے اور بڑی جلدی سے بلایا کہ دیکھتے ہی چلے آویں اس خط کو پڑھنے سے بڑی تشویش ہوئی کیونکہ اس وقت میرے گھر کے لوگ بھی سخت آپ سے بیمار تھے۔۔۔تب مجھے اس تشویش میں یک دفعہ غنودگی ہوئی اور یہ الہام ہوا۔إِن كَيْدَ كُنَّ عَظِيم یعنی اے عور تو تمہارے قریب بڑے ہیں۔۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی تفہیم ہوئی کہ یہ ایک خلاف واقعہ بہانہ بنایا گیا ہے تب میں نے شیخ حامل کو جو میرا نو کہ تھا پٹیالہ روانہ کیا جس نے واپس آکر بیان کیا کہ اسحق اور اش