مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 554
۵۵۲ نے اور آپ کی ازواج نے جو نمونہ آپ کی وفات کے وقت دکھایا وہ قابل تقلید نمونہ ہے۔تم بھی اس فرقہ کی عورتوں کے لئے نمونہ ہو احتیاط رکھنی چاہئیے کہ ایسے موقع پر جبکہ مردوں کے جس کے چھوٹے ہوئے ہیں۔کوئی ایسی بات نہ ہو جس کی تقلید کر کے آئندہ امت کی عورت میں کوئی بڑی رسم اختیار کر لیں۔تمہارے افعال، تمہارے اقوال تمہاری باتیں آئندہ کے لوگ سند پکڑیں گے۔پس اللہ تعالیٰ کی رضا میں تمہاری ہر بات ہو اور کوئی نمونہ ایسا نہ چھوڑ جاؤ جس پر قیامت تک کسی کی حرف گیری ہو سکے۔عورت کے لئے خاوند کا مرنا سب سے بڑھ کر صدمہ اور غم ہے مگر ہمیشہ کے لئے نہیں اگر کوئی مرجاتا اور کوئی ہمیشہ کے لئے زندہ رہ جاتا تو واقعی یہ صدمہ سخت صدمہ تھا مگر جب سب ایک راہ چل رہے ہیں اور آگے پیچھے سب کو مرنا ہے تو اگر یہی سمجھ لیا جائے کہ مرنے والا سفر پر گیا ہے یا چند دن کے لئے غائب ہے اور پھر ہم اس کو ضرور ملیں گے۔اور یہ طاقات ایسی ہوگی کہ پھر اس میں جدائی نہ ہوگی تو کیا یہ خوش آئند خیال نہیں ہے ؟ ہاں اور لوگوں کو تو ڈر ہو سکتا ہے کہ نیوی شاید وہاں اپنے میاں سے یا میاں اپنی بیوی سے وہاں نہ مل سکے۔کیونکہ ہر ایک کو اپنے اعمال کے سبب اجر دیا جاوے گا اور انجام کی کسی کو خبر ہے مگر یہاں تو یہ بات نہیں ہے۔ایمان لانے والی بی بی جو خدا تعالیٰ کی بشارت اور خوشخبری سے دُنیا میں اُس کے ساتھ رہی ہو۔وہ اگلے جہاں میں بھی اپنے میاں کے ساتھ ہوگی اور ضرور ہوگی۔جماعت احمدیہ کے لئے یہ ایک مفت ابتلا ہے۔پہلے وہ ایک لیے فکر کی طرح تھے اور نام کے مدد گار تھے۔اب ان کو معلوم ہوگا کہ کتنا بڑا کام وہ شخص اکیلا کرتا رہا۔نمیرا ایمان ہے کہ اگر یہ فرقہ یع ہے اور یقیناً پیچ پر ہے تو خدا اس کو ہر طرح کی ہلاکت سے بچائے گا اور ہر دشمن کی دشمنی سے محفوظ رکھے گا اور اسے دنیا کے اطراف میں پھیلا دے گا وہ شخص تو اپنا کام پورا کر گیا۔بلکہ دمیت بھی ایک چھوڑ دو دفعہ ھیوادی تھی۔