مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 553
۵۵۲ ایسی نہیں ہوتی کہ مرتے وقت اُن کو کوئی کادش یا ہم وحزن ہو بلکہ وہ ان کو دنیا سے بشارت اور دائمی برکت اور رحمت کے ساتھ لے جاتی ہے۔اور وہ لوگ میں طرح ایک ہو کا بچہ دیر کے بعد اپنی ماں کی گود میں سبک کر جاتا ہے اسی طرح اپنے رب سے وصال پاتے ہیں اور پھر ہمیشہ کے لئے اُس کے طرح طرح کے افضال اور الطاف کے مور دیتے ہیں نہیں موت کا وارد ہونا اس شخص کے لئے تو موجب فکر و تشویش ہو سکتا ہے جسے اگلے جہاں میں اپنے اعمال کا فکر ہو مگر جو شخص معصوم خدا کی درگاہ میں وہی جاتا ہے نہیں بلکہ اس کا عزیز مہمان اور پیارا دوست بن کر جاتا ہے۔تو اس کے انتقال پر ہم کو رشک کرنا چاہیئے کہ جس طرح یہ مرنے والا تیرا مقرب اور پسندیدہ درگاہ تھا۔اسی طرح تو ہم کو بھی توفیق دے کہ تیرے فضل سے ہم بھی مریں تو تیرے نیک اور پائے بندے ہو کہ مری اور آخرت میں ہم اس کے ساتھ ایسے ہی وابستہ رہیں میں طرح دنیا میں تھے۔دوسری بات جو ہم کو اس واقعہ سے پیش آئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی ہمارا امیر اور ہماری استقامت اس ابتلا کے موقع پر آزمانی چاہتا ہے۔ایک ہمارا سب سے پیارا اس جہاں سے رحلت فرما ہوا۔اگر ایسی حالت اور نا گہانی صدمہ کے وقت انسان شدت غم میں خدا تعالیٰ کی حدود سے باہر نہ جاوے اور جو کچھ سر پر گندا ائس کو خدا کی طرف سے سمجھے کہ اُسی سے صبر بھی مانگے اور ہر حال میں جیسا کہ ہم نے بیعت کے وقت سے اقرار کیا تھا اپنے عملوں سے بھی کر دکھا دے کہ خدا کی رضا پر ہر طرح راضی ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے دل کو صبر و قرار اور تسکین سے بھر دیتا ہے اور اس کے ایمان میں ترقی دیتا ہے۔دل پر جور پنج گزرتا ہے وہ فطرتی ہے مگر کثرت ہوم کے وقت کسی ایسی بات کا ہو جانا ممکن ہے جو خدا کی نظر میں ناپسندیدہ ہو۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۱۸ سال کی تھیں جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی۔انہوں