مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 543 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 543

۵۲۲ شہتوت پیدانہ کے موسم میں آپ پیدا نہ اکثر باغ کی جنس سے منگوا کر کھاتے تھے اور کبھی کبھی ان دنوں سیر کے وقت باغ کی جانب تشریف لے جاتے اور مع سبب رفیقوں کے اسی جگہ پیدا نہ تڑوا کر سب کے ہمراہ ایک ٹوکرے میں نوش جان فرماتے۔اور خشک میووں میں سے صرف بادام کو ترجیح دیتے تھے۔چائے کا میں پہلے اشارہ کر آیا ہوں۔آپ جاٹوں میں صبح کو اکثر مہمانوں کے لئے روزانہ بنواتے تھے اور خود بھی پی لیا کرتے تھے۔مگر عادت نہ تھی سبز چائے استعمال کرتے۔اور سیاہ کو ناپسند فرماتے تھے۔اکثر دودھ والی سیٹھی پیتے تھے۔زمانہ موجودہ کے ایجادات مثلاً برف اور سوڈا لیمونیڈ، جنیر وغیرہ بھی گرمی کے دنوں میں پی لیا کرتے تھے بلکہ شدت گرمی میں برف بھی امرت سر لاہور سے منگوایا کرتے تھے۔بازاری مٹھائیوں سے بھی آپ کو کسی قسم کا پر ہیز نہ تھا نہ اس بات کی پرپھول تھی کہ ہندو کی ساخت ہے یا مسلمانوں کی۔لوگوں کی نذرانہ کے طور پر آوردہ مٹھائیوں میں سے بھی کھا لیتے تھے اور خود بھی روپیہ دو روپیہ کی مٹھائی منگوا کر رکھا کرتے تھے۔پیٹھائی بچوں کے لئے ہوتی تھی۔کیونکہ وہ اکثر حضوری کے پاس چیزیں یا پیسہ مانگنے دوڑے آتے تھے میٹھے بھرے ہوئے سمو سے یا بیدانہ عام طور پر یہ دو ہی چیزیں آپ ان بچوں کے لئے منگوار کہتے۔کیونکہ یہی قادیان میں ان دنوں میں لگی بنتی تھیں۔ایک بات یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آپ کر اپنے کھانے کی نسبت اپنے مہمانوں کے کھانے کا زیادہ فکر رہتا تھا۔اور آپ دریافت فرمالیا کرتے کہ فلاں مہمان کو کیا کیا پسند ہے۔اور کس کس چیز کی اس کو عادت ہے۔چوہدری محمد علی صاحب ایم اے کا جب تک نکاح نہیں ہوا۔تب تک آپ کو ان کی خاطر داری کا اس قدر اہتمام تھا کہ روزانہ خود اپنی نگرانی میں ان کے لئے دودھ ، چائے، لیکٹ، مٹھائی، انڈے وغیرہ برابر صبح کے وقت بھیجا کرتے اور پھر لے جانے والے سے دریافت بھی کر لیتے تھے کہ انہوں نے اچھی طرح سے کھا