مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 477 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 477

کی خدمت میں حاضر ہوئے۔جب آپ نے ان کا سارا قصہ سنا تو بہت ہنسے اور فرمایا کہ تمہیں کس نے بتایا کہ الحمد میں یہ تاثیر ہے۔اچھا یہ بکریاں تم لوگ بانٹ لو۔اور مجھے بھی اپنی اجرت میں سے حصہ دو۔شراب کی خرابی رابتدائے مدینہ) حضرت علی نہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی میں ایک اونٹنی میرے حصہ میں آئی۔اور ایک اور اونشتی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمائی۔میں نے ایک دن ان دونوں انٹینوں کو ایک جگہ بٹھا کہ ارادہ کیا کہ ان پر اذخر گھاس جنگل سے کاٹ کر لاؤں گا اور اسے ستاروں کے ہاتھ یہی کہ جب کچھ رقم ہو جائے تو اپنی شادی کی دعوت ولیمہ کروں گا۔اذخر بیچنے کے لئے میں نے ایک سنار سے بات چیت بھی کر لی تھی۔اس سنار نے کہا تھا۔کہ تم لاؤ میں ضرور خرید لوں گا۔میں جنگل کو جانے کے لئے تیار تھا کہ اتنے میں پاس کے گھر میں سے میرے چچا حضرت حمزہ شراب کے نشر میں نکلے۔وہاں کچھ غزل خوانی بھی سو رہی تھی۔گانے والوں نے کہا۔کہ اسے حمزہ یہ موٹی موٹی اوشنیاں بیٹھی ہیں ان کو پکڑ لو۔اور ذبح کر لو۔اس پر حمزہ تلوار ہے کہ میری اونٹنیوں کے پاس آئے۔اور ان کے کوہان کاٹ ڈالے اور پیٹ چاک کر کے کلیجھیاں نکال لیں۔میں یہ خوفناک نظارہ دیکھ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے یہ واقعہ بیان کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کر سید ھے اس جگہ پہنچے اور حمزہ پر ناراض ہوئے۔کہ تم نے یہ کیا ظلم کیا۔حمزہ شراب کے نشے میں کہنے لگے کہ تم کون ہو ؟ میرے باپ کے غلام۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ ان کے تو ہوش دحواس ہی ٹھکانے نہیں تو واپس چلے آئے۔یہ واقعہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے (خدا تعالٰی کی اپنے خاص بندوں کے ساتھ یہ بھی عادت ہے کہ دنیا سے جانے سے پہلے ان کے سب تصور اور کمزوریاں ہیں دھو ڈالتا ہے۔حضرت حمزہ کی اس غلطی کے بدلے ان کے دن بعینہ اُن سے ہی معاملہ ہوا۔اور شده