مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 420
۴۱۹ مسلمانو انتم بھی اس پر باقاعدہ درود اور سلام کی دعائیں بھیجا کرو۔(۱۲) إنا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرُ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ إِنَّ شَائِكَ هُوَ الْأَبْتَون کو خبر ۴:۲) یعنی اے محمد ! ہم نے تجھ کو اولاد۔اور ہر نعمت بکثرت اور بے انتہاء عطا کی ہے۔پس تو بھی اپنے رب کے حضور نماز پڑھ اور قربانی کہ تیرا دشمن ہمیشہ نامراد اور لاولد رہے گا۔(۱۳) المُ نَشْرَحْ لَكَ صَدرَكَ۔وَوَضَعَنَا عَنكَ وِزيَك الَّذِي الْقَضَ ظَهْرَكَ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكرَك (الم نشرح ٢-٥) کیا ہم نے تیرے سینے کو کھول نہیں دیا۔اور تیرے اس بوجھ کو جس نے تیری کمر توڑ دی تھی تجھ پر سے ہٹا نہیں دیا۔بلکہ تیرے ذکر کو خوب بلند کیا۔(جس کا ایک نمونہ سیرت النبی کے جیسے بھی ہیں۔(۱۴) وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الهَوى - إِنْ هُوَ إِلَّا وَى يُوحَى۔۔۔(انجم ۴-۵) تُم دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ ادنى یعنی یہ رسول۔کوئی کلام خواہش نفسانی کے ماتحت نہیں کرتا۔بلکہ وحی الہی کے قیمت اس کے جبکہ اقوال وافعال ہیں۔۔۔۔۔۔اسی طرح یہ مخلوق اور خالق کے درمیان شفیع ہے۔اور جیس طرح دو کمانوں کی تاریں درمیان میں مل جاتی ہیں۔اسی طرح الوہیت انسانیت کی کمانوں کے درمیان بطور خط مستقیم کے ہے۔اور ان دونوں کے آپس کے تعلق کا ذریعہ ہے (۱۵) مَا كَانَ مُحَمَّد أَبا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَالكِن رَّسُولَ (احزاب (۲۱)