مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 351
۳۵۰ تشریح اور تغیر کریں۔اور اس سے مجھے بھی اطلاع دیں۔کیونکہ ابھی بہت سی باتیں زیادہ روشنی کی محتاج ہیں۔اور غور ذکر کے بعد زیادہ بہتر صورت میں بانٹی صورت میں کہی جاسکتی ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی روشنی میں ایک اور نئی حقیقت اور نئی توجیہ اور تفسیر اپنی حروف مقطعات کی کسی دوست کو مل جائے کیونکہ خدا تعالیٰ کا کلام بے حد وسیع ہے اور اس کے معانی طرح بطرح اور رنگ برنگ کے ہیں جو مختلف ذہنوں اور مختلف دماغوں کی مناسبت سے لوگوں پر کھولے جاتے ہیں۔پھر آگے سننے والے بھی اپنی لیاقت ، طبیعت اور مناسبت کے لحاظ سے کوئی ایک معنی کو پسند کرتا ہے اور کوئی دوسرے کو اور کوئی تیسرے کو۔پس میں جو اب ایک نئے سنی مقطعات کے بیان کرنے لگا ہوں۔اس کے لئے بھی ضروری نہیں کہ گزشتہ معانی منسوخ سمجھے جائیں بلکہ یہ ایک نیا قدم ہے اور نئے معنی ہیں جو پہلے لوگوں کے معانی کو منسوخ نہیں کرتے بلکہ صرف اتنی بات ہے کہ میرے نزدیک یہ توجیہہ گزشتہ توجیہات سے زیادہ نمایاں، زیادہ بہتر اور زیادہ قرین قیاس ہے۔ورنہ کلام الہی تو ایک لا انتہا سمندر ہے۔اور کسی ایک معنی یا مطلب پر اس کا حصر کر لیتا ایسا ہی ہے جیسے کہ کوئی یہ دعوے کرے کہ سنگترہ صرف ایک مفرح دل پھل ہے۔اس کے سوا اس نہیں کوئی اور خاصیت نہیں۔سو جب مخلوقات اہی میں سے ہر چیز میں لاتعداد خاصیتیں ہیں اور سر زمانہ میں نئی نئی ظاہر ہو رہی ہیں۔اسی طرح مقطعات کے مطلب کو بھی صرف ایک معنی میں محصور کہ دنیا نادانی ہے۔ہاں یہ جائز ہو ہوسکتا ہے کہ ایک شخص یہ کہے۔فلاں معافی دوسرے معانی سے زیادہ روشن واضح اور صاف ہیں۔یا میرا ذ ہن اور میری طبیعت ان کو زیادہ مناسب سمجھتی ہے۔ورنہ یہ بات نہیں ہے کہ دوسرے سب معافی غلط ہو گئے۔پس مقطعات کی نئی توجیہہ کر کے میں کسی سابقہ بزرگ کی یا صحابی کی نعوذ باللہ توہین نہیں کرنا چاہتا۔نہ یہ کہتا ہوں کہ ان کے معنی غلط ہیں۔ہاں یہ کہتا ہوں کہ یہ ایک نئے معنے ہیں اور غور کرنے کے لائق ہیں اور میرے نزدیک گزشتہ لوگوں کی توجہات سے زیادہ وسیع اور زیادہ قرین قیاس ہیں اور لیں۔