مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 343 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 343

اور مکمل نظام ہو جائے بلکہ آہ کے خلفاء اور آئندہ کے انتظام کے لئے بھی ابھی سے قوانین تیار کر دیئے۔تقریر تحریر تفسیر ہر بات میں ہر آئندہ خلیفہ سے بڑھنے کی کوشش میں ہیں۔سلسلہ کی دنیادی اور دینی ترقی جو ہم سمجھتے ہیں کہ ہوتے ہوتے ہو جائے گی وہ اس فکر میں ہیں کہ آج اور میرے زمانہ میں ہی ہو جائے۔غرض ہر طرف ایک طوفان پر پاہے نہیں چاہتے کہ کوئی امر نیک ایسا ہو جو میرے عہد خلافت میں تشکیل اور تکمیل نہ پائے تبلیغ ہو تو ایسی ہوں تعلیم ہو تو ایسی ہو۔انتظام ہو تو ایسا ہو۔رعب ہو تو ایسا ہو۔جماعت کی رومانیت ہو تو ایسی ہو۔کہ آئندہ کے لئے اسی لائن پہ یہ جماعت کام کر تی رہے۔اور میں ہر بات کا ہیڈ ہر بات کا موجد اور ہر بات میں لیڈر ہوں۔اور فتح کا سہرا میرے سر بندھے بیس اسی کے معنی یہ ہیں کہ لا نبى لِأَحَدٍ مِن الجُدِی۔آپ روز یہ نظارہ ملاحظہ کر رہے ہیں اور پھر اعتراض کرتے ہیں۔سلیمان علیہ السلام پر انہوں نے تو دعا ہی کی تھی۔یہاں تو عملی کاروائی بھی جاری ہے۔تعجب ہے کہ آپ کو اپنے سامنے نظارہ نظر نہیں آتا اور تین ہزار سال پہلے کی دیسی ہی ایک دعا آپ کو کھٹکتی ہے۔اولو العریم فطرتیں اگلے زمانوں کا انتظار نہیں کیا کرتیں بلکہ تمام نیکی اور بھلائی اور ترقی آپ سمیٹنا چاہتی ہیں۔نہیں یہ تو فطرت انسانی ہے کہ ہر انسان اپنی ذات کے ساتھ کوئی نہ کوئی اعلیٰ خوبی یا کمال والبستہ کرنا چاہتا ہے۔اور عزتیں مخصوص کرنا پسند کرتا ہے۔وہی فطرتی جذبہ یہاں بھی ہے۔اور یہی ہر بنی کرتا آیا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام و من درستی کی دُعا مانگ کر ابو الانبیاء بن گئے اور اس فضیلت کو کسی دوسرے کے لئے نہ چھوڑا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم الانبیا بین گئے اور آئندہ کے لئے کوئی نبوت کسی کے لئے نہ چھوڑی (سوائے اس کے جو ان کے صدقہ سے ہی ہے) حضرت سے موٹو ر آپ پر سلامتی ہو اتنی حباً لا یزید علیه غیری من بعدی کی دعا مانگ کر محبت اہلی کے اس مقام پر پہنچے کہ اب کسی غیر کو بغیر حضور کا طفیلی نبینے کے اس دائرہ میں قدم رکھنا محال ہو گیا۔