مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 342 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 342

حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا حضرت سلیمان علیہ السلام کی ایک دُعا کا ذکر قرآن کریم میں آتا ہے جو یہ ہے۔رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنْعَ لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِية إِنَّكَ أَنتَ الْوَقَابُ (ص: ۳۶) یعنی اے رب مجھے ایسی سلطنت بخیش جو میرے بعد کسی اور کونصیب نہ ہو۔تو تو برایش نہار ہے۔اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ بھلا اتنے بڑے بنی اور یہ ڈھا۔مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تو انسانی فطرت ہے کہ انسان ہر خوبی اور بڑائی کو اپنی ذات سے وابستہ کرنا چاہتے ہے۔اس تین ہزار سال پہلے بنی کی دُعا کے متعلق جو اصحاب کہتے ہیں کہ سمجھ میں نہیں آتی۔وہ اپنے پیرو مرشد یعنی حضرت خلیفہ مسیح ایدہ اللہ حضرت مصلح موعود کے عمل کو دیکھ لیں کہ حضور برات میں سبقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور سلسلہ کی ہر بھلائی کے لئے اتنے حریص نہیں کہ چاہتے ہیں کہ یہ سب کام سب ترقیاں میرے زمانہ اور میرے عہد خلافت میں ہی ہو جائیں نئی ہیوت الحمد بن رہی ہیں۔پرانی کی توسیع ہورہی ہے ، منارہ کی تکمیل کر دی ہر وقت یہ فکر ہے کہ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہ ہو کہ وہاں ماحمدی مبلغ نہ پہنچ چکا ہو۔سلسلہ کی آمد اتنی بڑھ جائے کہ اس پہ آئندہ تنگی نہ آسکے۔ہر جگہ درس جاری ہو جائیں۔احمدیہ پریس مضبوط ہو جائے جماعت کے تقولے اور نیکی کا معیار نہایت بلند ہو جائے۔احمدی تجارت ہیں اور کار خانے جاری ہو جائیں۔قادیان کی ترقی ہو جائے۔آئندہ کے لئے علماء اور کارکن تیار ہو جائیں تعلیمی ادارے قائم ہو جائیں۔نظام سلسلہ نہ صرف انہوں نے بنایا بلکہ یہ دھن ہے کہ وہ ایک کامل