مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 340
٣٣٩ بھی عالم برزخ میں مردہ کی روح کی طرح چلی جاتی ہے۔پھر جب وہ شخص جاگتا ہے تو فرشتوں کو حکم ہوتا ہے کہ دیکھو مردوں کی ارواح کے تھیلوں میں سے فلاں سونے والی روح کو تلاش کرو۔اور اسے جلدی دنیا میں فلاں جگہ پہنچاؤ۔اگر یہ نظریه پیچ مان لیا جائے۔تو پھر ایک مردے اور ایک ہونے والے کے جسم کا ایک سا حال ہونا چاہیئے۔اس دھوکہ میں لوگ فینائی اور میوسل کے الفاظ سمجھنے کی وجہ سے پڑ گئے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں۔کہ خدا محدود ہے۔اور ایک تخت پر کرسی بچھا کر بیٹھا ہوا ہے۔ارواح اس کے پاس لاکھوں کروڑوں میلوں سے لائی جاتی ہیں۔اور اس کے عرش کے نیچے رکھ دی جاتی ہیں اور پھر سونے والی رو میں تلاش کر کے واپس کی جاتی ہیں اور مرنے والوں کی وہیں تھیلوں میں بند پڑی رہتی ہیں۔اس قسم کے عقائد کا نتیجہ یہ ہے کہ اس آیت کے معنی سمجھنے میں مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔حالانکہ خدا ہر جگہ ہے اور ہر جگہ اس کے قید خانے موجود ہیں۔جہاں چاہتا ہے۔جیس روح کو قید کر سکتا ہے۔اس لئے اس آیت کے صحیح معنے یہ ہوں گے۔کہ مرنے والوں کی ارواح کو موت کے فرشتے قبض کر کے عالیم نیز رخ میں تا قیامت قید کر دیتے ہیں۔اور وہ دنیا میں واپس نہیں آسکتیں۔ان کا قید خانہ بالکل الگ ہے لیکن سونے والے کی روح کو جب خدا اپنے اختیار میں لے لیتا ہے تو اس روح کو اسی دنیا میں اس کے اپنے جسم کے کسی حصہ کو قید خانہ بنا کم قید کر دیتا ہے مشکل اس کی روح اسی کے داغ کے کسی خلا نے میں مقفل کر کے قید کر دی جاتی ہے۔اور اس طرح دو انگلی خدا کے قبضہ میں آجاتی ہے۔اور جب تک نہ جاگے وہ ایک بے اختیار قیدی کی طرح اس خاتے ہیں بند یتی ہے لیکن جب وہ جاگتی ہے یا کوئی اُسے جگاتا ہے۔تو محافظ فرشتہ فوراً قفل کھول کر اس روح کو چھوڑ دیتا ہے اور وہ با اختیار ہوکر اپنے سب کام اپنے دفتر (دباغ) میں آکر کرنے لگتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ایک ہی قید خانہ دونوں روحوں کے لئے نہیں ہے۔بلکہ مرنے والی روح کا قید خانہ عالم برزخ ہے۔اور سونے والی روح کا قید خانہ اس کے اپنے جسم میں ہے۔یہ اسی طرح ہے جیسے گورنمنٹ انگریزی کا قاعدہ ہے کہ تھوڑی میعاد کے قیدی کو اس کے اپنے شہر کی حوالات یا جیل میں رکھتی ہے اور عمر قیدی کو کالے پانی کی جیل میں بھیج دیتی ہے۔ہر شخص کے