مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 335 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 335

۳۳۴ شادی ہو گئی۔زید نے کہا کہ میسر نہ پر رخصت نہ ہو جائے۔لڑکی کے باپ بیکر نے کہا کہ ہم اتنی جلدی انتظام نہیں کر سکتے۔اگلے جلسہ سر پر رخصت نہ ہونا چاہیے ، غرض اس طرح بحث و تمحیص کے بعد فریقین ایک درمیانی راستہ پر راضی ہو گئے۔یعنی یہ کہ کانفرنس کر کے موقع پر اپریل میں رخصتانہ ہو جائے۔اور ان میں اس پر جہت پہچان ہو گیا۔زید دیکر دونوں چونکہ میرے بھی دوست تھے۔اس لئے اس شادی کی باتوں کا ذکر وہ مجھ سے بھی کرتے رہتے تھے۔فروری سگنر کا ذکر ہے کہ زید جو لڑکے کے باپ تھے۔انہوں نے مجھے ایک جمعہ کے دن مسجد اقصٰی میں کہا کہ میرالہ کا جس کا نکاح ہوا ہے۔وہ رخصت لے کر قادیان میں آگیا ہے۔آپ لڑکی والوں کو ایک خط لکھ دیں کہ وہ فوراً بھی رخصتانہ کر دیں۔میں سن کر حیران ہوا۔اور کہا کہ بھائی صاحب بہت لے دے کے بعد ان کا اور آپ کا اس اپریل میں رخصتانہ کا معاہدہ ہوا ہے، اب دو ماہ پہلے بلا کسی خاص وجہ کے کیونکہ میں ایسی نئی تحریک کر سکتا ہوں۔وہ بمشکل اپریل پر راضی ہوئے تھے۔اب آپ فروری فرمارہے ہیں۔آپ نے جو ان سے عہد اور اقرار کیا تھا۔وہ بہت ثقہ اور بزرگ لوگوں کے سامنے کیا تھا۔یہ بات ایک بالکل تا مناسب ہے۔صرف دو ماہ اس اقرار میں باقی ہیں۔ابھی لڑکی والے تیار بھی نہ ہوں گے۔آپ اتنی محبت نہ فرمائیں۔مگر وہ مصر رہے اور بار بار یہی فرماتے رہے کہ کیا حرج ہے۔اب لڑکا جو رخصت لے کمہ آ گیا ہے۔لڑکی والوں نے جہیز امید ہے کہ تیار کر لیا ہو گا۔دو ماہ کا فرق ایسا کون سا بڑا فرق ہے۔وغیرہ وغیرہ۔وہ تو اپنی تقریر میں مصروف تھے کہ ان کے اس رویہ اور تقریر سے میں سے ذہن میں یکدم اس آیت کا حل آگیا۔اور میں نے اُن سے کہا۔کہ اب جو جی چاہیں کریں۔ایک آیت کے متعلق مجھے دقت تھی۔وہ آپ کی اس تقریر اور تعمیل کے رویہ کی وجہ سے حل ہو گئی ہے۔فالحمد لله اب میں دوستوں کو وہ حل بتاتا ہوں۔اور عجیب بات یہ ہے کہ متعدد دفعہ بعض مشکلات کلام الہی کی فوری طور پر اور اتفاقاً اسی طرح دوسرے شخصوں کی باتوں اور رویہ سے