مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 236 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 236

۲۳۵ رال) وہاں سے چلتے چلتے ہم ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں ایک قاتل کھڑا تھا۔اس کی بابت یسنا کہ اس شخص نے نانوے خون کئے تھے اس کے بعد اس کے دل میں تویہ کی خواہش پیدا ہوئی ، اور وہ ایک راہب کے پاس گیا اور کہا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے یا نہیں ؟؟ را سب نے جواب دیا۔ہر گز نہیں ، اور اس نے غصہ میں آکر را سب کو بھی مارڈالا۔پھر وہ آگے چلا لوگوں نے اسے ایک بزرگ کا پتہ دیا کہ شاید وہاں تیری تو یہ کی کوئی صورت نکلے۔یہ قاتل اس گاؤں کی طرف روانہ ہوا۔راستے میں ایک جگہ وہ قضائے الہی سے مرگیا۔اس پر رحمت کے فرشتوں اور مذاب کے فرشتوں میں جھگڑا ہوا۔عذاب کے فرشتے کہتے تھے کہ یہ ایک ظالم ڈاکو اور قاتل ہے اور دوسرے کہتے تھے کہ ہاں یہ ٹھیک ہے، مگر یہ تو تو یہ کرنے چلا تھا۔غرض ایک ہنگامہ اس امر پر یہ ہاتھا۔میں نے سنا کہ بارگاہ الوہیت سے فرمان صادر ہوا کہ بتاؤ اس کی نعش میں اور اس کے وطن میں کتنا فاصلہ تھا ؟ اسی طرح اس کے مرنے کی جگہ میں اور اس بزرگ کے شہر میں کتنا فاصلہ تھا ؟ حضرت میکائیل کے محکمہ سے رپورٹ ہوئی کہ اس کی نعش اس بزرگ کی بستی سے بقدر ایک بالشت کے نزدیک تھی۔ارشاد ہوا۔ہم نے اس کی توبہ قبول فرمائی اور اسے بخش دیا ، اس پر ہماری مغفرت کی چادر ڈال دو (۱۲) پھر اور آگے چلے۔ایک جگہ ایک بہت بڑے گنہگار کا مقدمہ پیش ہو رہا تھا۔کرانا کاتبین نے عرض کیا : یا الہ العالمین ار شخص دن کو تو گناہ کرتا تھا اور رات کو روتا تھا کہ اسے میرے رب ! میں نے قصور کیا ہے مجھے معاف فرما۔اس پر حضور کے ہاں سے اس کا قصور معاف فرمایا جاتا اور ارشاد ہوتا میرا یہ بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو